خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 191

خطبات مسرور جلد ہفتم 191 (17) خطبہ جمعہ فرمودہ 24 اپریل 2009 فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2009ء بمطابق 24 / شہادت 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں ایک لفظ متعدد بار بعض اوقات سنتے ہیں اور استعمال بھی کرتے ہیں اور وہ لفظ ہے ” نفع“۔کاروباری لوگوں کے کاروبار کا مدار ہی اس لفظ پر ہوتا ہے۔چاہے وہ ایک چھوٹا سا چھا بڑی لگا کر اپنا سامان بیچنے والا شخص ہو یا ملٹی ملینٹر (Multi Millionaire) ہو جس کے کاروبار دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ہمیشہ یہ لوگ ایسی سوچ میں رہتے ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جائے۔اس کے لئے وہ جائز ذرائع بھی استعمال کرتے ہیں اور اکثر اوقات آج کل کی دنیا میں نا جائز ذرائع بھی استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔اور اسی طرح ایک عام آدمی ہے جس کا کاروبار سے تو کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن وہ بھی اپنے مفاد کی سوچ رہا ہوتا ہے کہ کس طرح وہ کسی بھی چیز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے اور یہی چیز اس کے لئے نفع حاصل کرنا ہے۔یہ تو دنیاوی معاملات میں اس لفظ کا استعمال ہے لیکن دینی اور روحانی دنیا میں بھی اس کا بہت استعمال ہوتا ہے۔اس تعلق میں احادیث اور قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں کچھ بیان کروں گا۔یہ لفظ عربی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اس لئے اس کے لغوی معنی پہلے بیان کرتا ہوں۔نَفَع کا مطلب ہے کسی چیز کا انسان کو فائدہ پہنچانا کسی چیز کا انسان کو میسر آنا کسی چیز کا قابل استعمال یا قابل فائدہ ہونا۔لین (Lane) ایک لغت کی کتاب ہے۔یہ اس میں لکھا ہے۔پھر لین (Lane) میں ہی نَفْعَهُ - (ف کی شد کے ساتھ ) لکھا گیا ہے۔اس کا مطلب ہے کسی شخص کا کسی کے لئے فائدہ کا سبب بنا اور بعض احادیث کے مطابق ایک مومن کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ دوسروں کے فائدے کا موجب بنتا ہے۔پھر مفردات میں لکھا ہے کہ النفعُ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے۔یا وسیلہ بنایا جائے۔پس نفع خیر کا نام ہے۔پھر لین (Lane) میں ہی اس کا یہ مطلب بھی لکھا ہے کہ کسی شخص کے مقصود کو حاصل کرنے کا ذریعہ۔اور لسان العرب ایک لغت کی کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ النَّافِع اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہے۔اس کا