خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 178

178 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 10 اپریل 2009 جاتی ہیں، دن لمبے ہو جاتے ہیں۔دن چھوٹے ہوتے ہیں راتیں لمبی ہو جاتی ہیں یا بعض دفعہ برابر ہو جاتے ہیں۔یہ جو انسان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ادلتے بدلتے موسم بنائے ہیں ، یہ اس لئے ہیں کہ وہ ایک تو اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و شنا کرے کہ کتنا بڑا احسان ہے، ایک ہی طرح کی چیز نہیں بنائی جس میں کوئی تبدیلی نہ ہو بلکہ جو فطرت نے اس کی طبیعت میں تبدیلی رکھی ہے اس کا اظہار ہوتا رہے اور انسان کہیں ڈپریشن کا مریض نہ ہو جائے اسے مختلف موسم دئے ، پھر یہ کہ روشنی کے جو دن ہیں اگر ہم جائزہ لیں تو روشنی عموماً زیادہ دنوں پر پھیلی ہوئی ہے۔چھوٹے دن کم عرصے کے لئے ہوتے ہیں اور بڑے دن زیادہ عرصہ کے لئے ہوتے ہیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عقلمند وہی لوگ ہیں جو ان ادلتے بدلتے موسموں کو ، دنوں کو دیکھیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے احسان مند ہوں ، شکر گزار ہوں کہ اس نے جس طرح انسان کی فطرت بنائی اس کے مطابق موسموں کو بھی ڈھال دیا اور اس لحاظ سے یہاں فرمایا کہ یہ جو بدلتے ہوئے دن ہیں اور راتیں ہیں انسان کو ان روشنی کے دنوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور روحانی فائدہ بھی اٹھانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے نور کو، اس روشنی کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے، وہ روحانی روشنی جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے دنیا میں بھیجتا ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ان بھیجے ہوؤں کو تلاش کرنا چاہئے اور جو پیغام وہ لاتے ہیں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے اس کے آگے جھکتے ہوئے اس کی صداقت کو تسلیم کرنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے نہ کہ انکار کرنے کی طرف۔تو یہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کو توجہ دلاتی ہیں۔اس کی عبادت کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔اس کا شکر گزار اور احسان مند بناتی ہیں۔ہم خوش قسمت ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت ثانی کو پہچان کر اُس روشنی سے حصہ پا رہے ہیں جو اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ہماری روحانی ترقی کے لئے بھیجی۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حصہ پانے اور فیض اٹھانے کے لئے صرف پہچاننا اور مان لینا کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت ضروری ہے ، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا کہ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ کہ وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی۔وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَواتِ وَالْاَرْضِ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور کرتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا۔سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ بے ساختہ یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہرگز یہ چیزیں یوں ہی پیدا نہیں کیں۔بے مقصد پیدا نہیں کیں بلکہ ہر پیدائش کا ایک مقصد ہے اللہ تعالیٰ کی جتنی مخلوق اس زمین پر بھی پائی جاتی ہے چاہے وہ زہر یلے جانور ہی ہوں ، ان کا بھی ایک مقصد ہے۔اور پاک ہے تو۔پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ہم کہیں تیری اس بات کا انکار کر کے تیری خدائی کا انکار کر کے آگ کے عذاب میں نہ پڑنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے مبعوث کئے ہوئے کو ماننے کے بعد پھر اور بھی زیادہ ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے