خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 179
179 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 10 اپریل 2009 ذکر کی طرف توجہ پیدا ہو اور ہر وقت ہر سوچ کے ساتھ اور ہر چیز جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اس کو دیکھ کر ایک احسان مندی اور شکر گزاری کے جذبات پیدا ہوں۔اور جب ذکر ہوگا تو عبادت کی طرف توجہ ہوگی اور جب عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیں ان کی پابندی کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی۔تو یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس کے اندر آ کر انسان پھر نیکیوں پر عمل کرتا ہے۔نیکیوں کو کرنے کی توفیق پاتا ہے اور شکر گزاری کے جذبات سے سرشار رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی زمین و آسمان میں پیدا کی ہے اس پر غور کر کے اللہ تعالیٰ پر ایک بندے کا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی پہچان کرنے کی کوشش کرنے والا ہو۔اس علاقے میں بھی ہم دیکھتے ہیں اونچے پہاڑ ہیں۔گہری کھائیاں ہیں۔آبشار میں ہیں۔ندی نالے ہیں۔جھیلیں ہیں ، لیک ڈسٹرک کا علاقہ کہلاتا ہے، بہت ساری جھیلیں ہیں۔تو یہ سب جو ہیں خدا کا تصور پیش کرتی ہیں۔ان چیزوں کی تصویر کشی کرتی ہیں جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیں اور ہمارے فائدے کے لئے پیدا کیں۔اگر ہم کائنات کا نقشہ دیکھیں تو جو بھی اپنی دور بینوں سے سائنسدانوں نے تصویر لی ہے کا ئنات کے اس پورے یو نیورس (Universe) کی تو ہماری زمین جو ہے ان ستاروں کے جھرمٹ میں ایک چھوٹا سا ایسا نقطہ نظر آتا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ یہ لکھا جاتا ہے کہ ہماری زمین یہیں کہیں ہوگی۔اس زمین میں ہی بے شمار چیز یں اللہ تعالی نے ایسی پیدا کر دی ہیں جو انسان جب دیکھے تو نئی سے نئی لگتی ہیں۔کسی بھی رستے پر چلے جائیں، کسی بھی جنگل میں چلے جائیں، کسی بھی دریا کے کنارے کھڑے ہو جائیں، ریگستانوں میں کھڑے ہو جائیں تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی قدرت ایک نئے رنگ سے نظر آئے گی۔قدرت کے جلوے ایک نئی شان سے ظاہر ہورہے ہوں گے جو خدا تعالیٰ کی خدائی پر بے اختیار یقین قائم کرتے ہیں۔یہ بھی ایک احمدی کی شان ہے کہ اس زمانہ کے امام کو پہچان کر ان چیزوں کی طرف مزید توجہ پیدا ہوئی۔اللہ تعالیٰ کی صناعی کی طرف ، قدرت کی طرف، اس کی پیدائش کی طرف ایک توجہ پیدا ہوئی۔ورنہ علامہ اقبال ایک مشہور شاعر تھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہوئے ایک مشکوہ کی نظم لکھی جس کا نام شکوہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے شکل مجاز میں نظر آ۔مسلمان بھی تھے ، عالم بھی تھے، بہت پڑھے ہوئے بھی تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی پیدائش کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی پہچان ان کو نہ ہو سکی۔لیکن ایک احمدی خاتون جو زمانے کے امام کی پیاری بیٹی تھی انہوں نے ان کی گود میں تربیت پائی تھی، انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ مجھے پہاڑوں کی بلندیوں میں دیکھو، مجھے گہری کھائیوں میں بھی دیکھو، مع مجھے دیکھ رفعت کوہ میں، مجھے دیکھ پستی کاہ میں در عدن صفحه 71 نشان حقیقت کی آرزو - مطوعہ ربوہ ) اور ہر چیز اور خدا تعالیٰ کی جو ہر پیدائش ہے، اس میں میں شکل مجاز میں نظر آؤں گا اور تمہیں ہر چیز کو دیکھ کر میری صناعی کو دیکھ کر میری یاد آنی چاہئے۔تو یہ ہے ایک احمدی کا طرہ امتیاز جس کو اللہ تعالیٰ کی پہچان ہر چیز کو دیکھ کر پہلے سے زیادہ ہوتی ہے اور ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔