خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 130
خطبات مسرور جلد ہفتم 130 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مارچ 2009 یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جلسہ سیاسی مقصد کے لئے اور احمدیوں کے خلاف اپنے بغض و عناد کے اظہار کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔تو اس قسم کے جو جلسے ہیں ان کا تو کوئی فائدہ نہیں۔آنحضرت ﷺ کی ذات تو وہ بابرکت ذات ہے کہ جب آپ آئے تو رحمتہ للعالمین بن کے آئے۔آپ تو دشمنوں کے لئے بھی رو رو کر دعائیں کرتے رہے۔ایک صحابی سے روایت ہے کہ ایک رات مجھے آنحضرت ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھنے کا موقع ملا تو اس میں آپ یہی دعا مستقل کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو بخش دے اور عقل دے۔( سنن النسائی کتاب الافتتاح باب تردید الآیۃ حدیث نمبر (1010) لیکن آج کل کے مُلاں اس اسوہ پر عمل کرنے کی بجائے کیا کر رہے ہیں؟ قادیانیوں کے خلاف ( جوان کی زبان میں قادیانی کہلاتے ہیں ) یعنی ہم احمدیوں کے خلاف جو گندی زبان استعمال کی جاسکتی ہے کی جاتی ہے اور الزامات لگائے جاتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کا اسوہ تو یہ تھا کہ ایک صحابی کے جنگ کے دوران دشمن پر غلبہ پاکے اُسے قتل کر دینے پر جبکہ اس نے کلمہ پڑھ لیا تھا، آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے دل چیر کر دیکھا تھا ؟ اور اتنا شدت سے اظہار کیا کہ انہوں نے خواہش کی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔(سنن ابی داؤد کتاب الجہا د باب على ما يقاتل المشركون حدیث نمبر 2643) لیکن ان کے عمل کیا ہیں؟ بالکل اس کے الٹ۔بہر حال یہ تو ان کے عمل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے تسلسل میں کیا فرماتے ہیں ہمیں آگے پیش کرتا ہوں۔فرمایا کہ محض تذکرہ آنحضرت ﷺ کا عمدہ چیز ہے۔اس سے محبت بڑھتی ہے اور آپ کی اتباع کے لئے تحریک ہوتی اور جوش پیدا ہوتا ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 159 حاشیہ۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) قرآن شریف میں بھی اس لئے بعض تذکرے موجود ہیں جیسے فرمایا وَ اذْكُرْ فِي الْكِتَبِ إِبْرَاهِيمَ (مریم:42 )۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 159 حاشیہ۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) لیکن ان تذکروں کے بیان میں بعض بدعات ملا دی جائیں تو وہ حرام ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ یہ یاد رکھو کہ اصل مقصد اسلام کا توحید ہے۔مولود کی محفلیں کرنے والوں میں آج کل دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بدعات ملا لی گئی ہیں۔جس میں ایک جائز اور موجب رحمت فعل کو خراب کر دیا ہے۔آنحضرت ﷺ کا تذکرہ موجب رحمت ہے مگر غیر