خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 129
129 خطبہ جمعہ فرمود : 13 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس سب سے پہلے جن لوگوں نے میلاد النبی ﷺ کی تقریب شروع کی وہ باطنی مذہب کے تھے اور جس طرح انہوں نے شروع کی وہ یقیناً ایک بدعت تھی۔مصر میں ان کی حکومت کا زمانہ 2 36 ہجری بتایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے دن منائے جاتے تھے۔یوم عاشورہ ہے۔میلادالنبی تو خیر ہے ہی۔میلاد حضرت علی ہے۔میلاد حضرت حسنؓ ہے۔میلاد حضرت حسینؓ ہے۔میلاد حضرت فاطمۃ الزہرا ہے۔رجب کے مہینے کی پہلی رات کو مناتے ہیں۔درمیانی رات کو مناتے ہیں۔شعبان کے مہینے کی پہلی رات مناتے ہیں۔پھر ختم کی رات ہے۔رمضان کے حوالے سے مختلف تقریبات ہیں اور بے تحاشا اور بھی دن ہیں جو مناتے ہیں اور انہوں نے اسلام میں بدعات پیدا کیں۔جیسا کہ میں نے کہا مسلمانوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو بالکل اس کو نہیں مناتے اور عید میلادالنبی کو بدعت قرار دیتے ہیں۔یہ دوسرا گروہ ہے جس نے اتنا غلو سے کام لیا کہ انتہا کر دی۔بہر حال ہم دیکھیں گے کہ اس زمانے کے امام نے جن کو اللہ تعالیٰ نے حکم اور عدل کر کے بھیجا ہے انہوں نے اس بارے میں کیا ارشاد فرمایا۔ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مولود خوانی پر سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ: آنحضرت ﷺ کا تذکرہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ انبیاء اور اولیاء کی یاد سے رحمت نازل ہوتی ہے اور خود خدا نے بھی انبیاء کے تذکرہ کی ترغیب دی ہے۔لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جاویں جن سے توحید میں خلل واقع ہو تو وہ جائز نہیں۔خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ رکھو۔آج کل کے مولویوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہوتے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشاء کے خلاف ہیں۔اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے۔آنحضرت ﷺ کی بعثت ، پیدائش اور وفات کا ذکر ہو تو موجب ثواب ہے۔ہم مجاز نہیں کہ اپنی شریعت یا کتاب بنالیویں“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 159-160۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) آنحضرت ﷺ کی سیرت اگر بیان کرنی ہے تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔لیکن آج کل ہوتا کیا ہے؟ خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان میں ان جلسوں کو سیرت سے زیادہ سیاسی بنالیا جاتا ہے، یا ایک دوسرے مذہب پہ یا ایک دوسرے فرقے پر گندا چھالنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان میں جو کوئی جلسہ یہ لوگ کرتے ہیں، اس میں یہ نہیں ہوا کہ سیرت کے پہلو بیان کر کے صرف وہیں تک بس کر دیا جائے بلکہ ہر جگہ پر جماعت احمدیہ کے خلاف اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر بے انتہا بیہودہ اور لغو قسم کی باتیں کی جاتی ہیں اور آپ کی ذات کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں ربوہ میں ہی مولویوں نے بڑا جلسہ کیا ، جلوس نکالا۔اور وہاں کی جور پورٹس ہیں اس میں صرف