خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 94

94 خطبه جمعه فرموده 20 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم تھی وہ پیدا ہو کر صغرسنی (چھوٹی عمر میں فوت ہو گیا۔اس کا مفصل جواب اسی تقریر میں مذکور ہے اور خلاصہ جواب یہ ہے کہ آج تک ہم نے کسی اشتہار میں نہیں لکھا کہ یہ ڑ کا عمر پانے والا ہوگا اور نہ یہ کہا کہ یہی مصلح موعود ہے“۔یعنی جو لڑکا پیدا ہوا تھا بشیر اول وہی عمر پانے والے یا مصلح موعود ہیں۔” بلکہ ہمارے اشتہار 20 فروری 1886ء میں بعض ہمارے لڑکوں کی نسبت یہ پیشگوئی موجود تھی کہ وہ کم عمری میں فوت ہوں گے۔پس سوچنا چاہئے کہ اس لڑکے کی وفات سے ایک پیشگوئی پوری ہوئی یا جھوٹی نکلی۔بلکہ جس قدر ہم نے لوگوں میں الہامات شائع کئے اکثر ان کے اس لڑکے کی وفات پر دلالت کرتے تھے۔چنانچہ 20 فروری 1886ء کے اشتہار کی یہ عبارت کہ ایک خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔یہ جو پیشگوئی میں نے پڑھی اس کے یہ الفاظ تھے۔فرماتے ہیں یہ مہمان کا لفظ در حقیقت اسی لڑکے کا نام رکھا گیا تھا اور یہ اس کی کم عمری اور جلد فوت ہونے پر دلالت کرتا ہے۔کیونکہ مہمان وہی ہوتا ہے جو چند روز رہ کر چلا جاوے اور دیکھتے دیکھتے رخصت ہو جاوے اور جو قائم مقام ہو اور دوسروں کو رخصت کرے اس کا نام اور کا مہمان نہیں ہوسکتا اور اشتہار مذکور کی یہ عبارت کہ وہ رجس سے ( یعنی گناہ سے ) بکنی پاک ہے۔یہ بھی اس کی صغرسنی کی وفات پر دلالت کرتی ہے“۔(چھوٹی عمر میں وفات پر دلالت کرتی ہے اور یہ دھوکہ کھانا نہیں چاہئے کہ جس پیشگوئی کا ذکر ہوا ہے وہ مصلح موعود کے حق میں ہے۔کیونکہ بذریعہ الہام صاف طور پر کھل گیا ہے کہ یہ سب عبارتیں پسر متوفی کے حق میں ہیں اور مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا ( پہلے جو تین چار لائنوں کے الفاظ ہیں وہ بشیر اول کے بارہ میں ہیں۔مصلح موعود کی جو پیشگوئی ہے وہ اس لفظ سے شروع ہوتی ہے۔الفاظ اس کے یہی ہیں۔فرمایا کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔پس مصلح موعود کا نام الہامی عبارت میں فضل رکھا گیا اور نیز دوسرا نام اس کا محمود اور تیسرا نام اس کا بشیر ثانی بھی ہے اور ایک الہام میں اس کا نام فضل عمر ظاہر کیا گیا ہے اور ضرور تھا کہ اس کا آنا معرض التواء میں رہتا جب تک یہ بشیر جو فوت ہو گیا ہے، پیدا ہو کر پھر واپس اٹھایا جاتا کیونکہ یہ سب امور حکمت الہیہ نے اس کے قدموں کے نیچے رکھے تھے اور بشیر اول جو فوت ہو گیا ہے بشیر ثانی کے لئے بطور ا رہاص تھا۔اس لئے دونوں کا ایک ہی پیشگوئی میں ذکر کیا گیا۔سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد نمبر 2 صفحہ 466-467 - حاشیہ ) بہر حال 12 جنوری 1889ء کو پیشگوئی کے تین سال کے بعد یہ لڑکا پیدا ہوا جن کا نام مرزا بشیر الدین محمود احمد رکھا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی کتاب سر الخلافہ میں (یہ کتاب 1894ء میں لکھی گئی تھی ) تحریر فرماتے ہیں کہ: ”میرا ایک چھوٹا بیٹا جس کا نام بشیر تھا (بشیر اول مراد ہے ) اللہ تعالیٰ نے اسے شیر خواری میں ہی وفات