خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 95

خطبات مسرور جلد ہفتم 95 خطبه جمعه فرموده 20 فروری 2009 دے دی۔تب مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ ہم اسے از راہ احسان تمہارے پاس واپس بھیج دیں گے۔ایسا ہی اس بچے کی والدہ نے رویا میں دیکھا کہ بشیر آگیا ہے اور کہتا ہے کہ میں آپ سے نہایت محبت کے ساتھ ملوں گا اور جلد جدا نہ ہوں گا اور اس الہام اور رؤیا کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے دوسرا فرزند عطا فرمایا۔تب میں نے جان لیا کہ یہ وہی بشیر ( موعود ) ہے اور خدا تعالیٰ اپنے وعدہ میں سچا ہے۔چنانچہ میں نے اس بچے کا نام بشیر ہی رکھا اور مجھے اس کے جسم میں بشیر اول کا حلیہ دکھائی دیتا ہے“۔( ترجمه از عربی عبارت سر الخلافۃ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 381) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس عظیم فرزند کی ذات میں ، حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کی ذات میں جو بیٹی ثانی ہیں، پیشگوئی مصلح موعود بڑی شان سے پوری ہوئی۔جس کا اظہار ایک دنیا نے کیا۔آپ حضرت خلیفہ مسیح الاول کی وفات کے بعد خلیفہ بنے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے 52 سال آپ کی خلافت رہی اور آپ کے زمانہ میں جماعت نے جس طرح ہندوستان سے باہر نکل کر ترقی کی ہے یہ بھی اس پیشگوئی کی سچائی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ کے دور کا احاطہ کریں تو ایک وقت میں اس بارہ میں کچھ کہنا مشکل کیا ناممکن ہے۔لیکن اس وقت میں پیشگوئی کے پورا ہونے کے جو خاص نشانات ہیں اور اس سلسلہ میں بعض واقعات حضرت مصلح موعود کی اپنی زبان میں اور جو غیروں نے بیان کئے وہ بیان کروں گا۔یہاں یہ بھی بتا دوں کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے جو مصلح موعود تھے اس وقت تک اپنے بارے میں اعلان نہیں فرمایا کہ میں مصلح موعود ہوں جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا نہیں دیا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر 1944ء میں آپ نے اعلان فرمایا کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اور میں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کے ذریعہ سے اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور تو حید دنیا میں قائم ہوگی۔پہلے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی بعض شہادتیں جو غیروں کی ہیں وہ پیش کر دیتا ہوں۔ایک معزز غیر احمدی عالم مولوی سمیع اللہ خاں صاحب فاروقی نے قیام پاکستان سے پہلے اظہار حق“ کے نام سے ایک ٹریکٹ میں لکھا کہ آپ کو ( یعنی مسیح موعود کو اطلاع ملتی ہے کہ میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وجی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی قبول کریں گے۔اس پیشگوئی کو پڑھو اور بار بار پڑھو اور پھر ایمان سے کہو کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس وقت موجودہ خلیفہ ابھی بچہ ہی تھے اور مرزا صاحب کی جانب سے انہیں خلیفہ مقرر کرانے کے لئے کسی قسم کی وصیت بھی نہ کی گئی تھی بلکہ خلافت کا انتخاب رائے عامہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔چنانچہ اس وقت اکثریت نے ( حضرت ) حکیم نورالدین صاحب ( رضی اللہ عنہ ) کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔جس پر مخالفین نے محولہ صدر پیشگوئی کا مذاق بھی اڑایا لیکن حکیم صاحب کی وفات کے بعد مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ مقرر ہوئے اور