خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 76
76 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا میں ہم اس حوالے سے دعا مانگتے ہیں اور مانگنی چاہئے کہ اے اللہ ! تو ہمیں ایسے راستے پر چلا ، اس طرح ہماری راہنمائی فرما جو اچھا راستہ بھی ہو۔نیکی کی طرف لے جانے والا راستہ بھی ہو اور پھر ہم اس پر چل کر نیکی کو حاصل بھی کر لیں۔صرف راستے کی نشاندہی نہ ہو جائے بلکہ ہم اس پر چلتے رہیں اور نیکی کو حاصل بھی کر لیں۔اور پھر یہ کہ اپنے اس مقصود کو یعنی نیکی کو جلدی حاصل کر لیں اور اس کے بعد پھر مزید اگلے رستوں پر چلنا شروع کر دیں۔پس اس دُعا کے ساتھ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتا۔ایک مومن کبھی تسلی پکڑ کر نہیں بیٹھ سکتا۔بلکہ کوشش کرے گا کہ ہمیشہ روحانیت میں بھی آگے بڑھے اور دنیاوی ترقیات میں بھی نئی منزلیں حاصل کرے۔دنیاوی ترقیات میں تو ہم عموماً آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بڑی شدید کوشش کر رہے ہوتے ہیں لیکن روحانیت میں اس لحاظ سے کوشش نہیں ہو رہی ہوتی۔بہر حال اس دعا میں روحانی بھی اور مادی بھی دونوں طرح کی کوششوں کا ذکر ہے۔دوسرے اس دعا میں رہبانیت کا بھی رد ہے۔جو کہتے ہیں کہ فقیر بن گئے، علیحدہ ہو گئے ، دنیا سے کٹ گئے اس کا بھی رد ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے تو پیدا کر کے ساتھ ہی اپنی بے شمار نعمتیں بھی پیدا کی ہیں۔اس دعا میں ان کے حصول کی کوشش کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔اس کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی جو ساری نعمتیں ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے پیدا کی ہیں جو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے۔اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ دنیا سے کٹ جایا جائے۔پھر جیسا کہ میں نے کہا دنیاوی میدان کے علم و معرفت میں ترقی کی دعا بھی ہے۔روحانی میدان میں آگے بڑھتے چلے جانے کی اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے لئے بھی یہ دعا ہے اور ہدایت کیونکہ صرف خدا تعالیٰ ہی دے سکتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ اِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدَى ( البقرة: 121) که یقینا اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔اس لئے یہ دعا بھی سکھائی کہ کسی بھی معاملے میں ہدایت حاصل کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ سے مانگو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہمیں سیدھے راستے پر ہدایت دے۔ہر چیز جو مانگی جارہی ہے اس کے لئے جو راستے معین ہیں ان کی طرف ہدایت دے تا کہ ہم ان پر صیح طرح چل بھی سکیں ، ان کو حاصل بھی کر سکیں اور نہ صرف حاصل کر سکیں بلکہ جلد از جلد حاصل کر سکیں۔تو یہ دعا ترقی کے حصول کے لئے ابھارتی رہتی ہے۔کیونکہ اس دُعا کے ساتھ ایک انسان اللہ تعالیٰ سے یہ کہتا ہے کہ مجھے ایسے راستے پر چلا جہاں میرے تمام کام جائز ذرائع سے ہی ہوں۔جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرتے ہوئے ایک منزل پر پہنچ جاؤں تو اگلی منزل کی طرف راہنمائی فرما تا کہ بغیر وقت کے ضیاع کے اگلی منزلوں کی طرف بھی رواں دواں ہو جاؤں اور منزلوں پر منزلیں طے کرتا چلا جاؤں۔یہاں ایک بات اور واضح کرنی چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اهْدِنَا کی دعا سکھاتی ہے۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ