خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 62
خطبات مسرور جلد ہفتم 6 62 خطبه جمعه فرموده 6 فروری 2009 فرمودہ مورخہ 6 فروری 2009ء بمطابق 6 تبلیغ 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام الْهَادِی“ ہے۔عربی کی لغت کی کتاب لِسَانُ الْعَرَب میں یہ معنی بھی لکھے ہیں کہ وہ ذات جو اپنے بندوں کو اپنی معرفت اور پہچان کے طریق دکھائے یہاں تک کہ وہ اس کی ربوبیت کا اقرار کرنے لگیں۔یہ طریق اللہ تعالیٰ کس طرح دکھاتا ہے، کیا حالات ہوتے ہیں جب دکھاتا ہے؟ یہ اُس وقت دکھاتا ہے جب بندے خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے انکاری ہوتے ہیں۔اس انکار کے بھی مختلف طریقے ہیں۔کبھی بندے کو خدا بنالیا جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسی کو بنایا ہوا ہے۔کبھی انسان طاقت کے زور پر خود خدا بن جاتے ہیں۔جیسے پرانے انبیاء کے زمانے میں ہوتے رہے۔فرعون نے بھی یہی کیا۔یا اس زمانے میں بھی کوئی اپنے آپ کو خدا کہتا ہے یا خدا تعالیٰ کا اس دنیا میں جسمانی مظہر قرار دیتا ہے۔اپنی قبر کو سجدے کرنے کے لئے کہتا ہے۔یا پھر دنیا داری میں بڑی طاقتیں اپنے آپ کو لازوال قوتوں کا مالک سمجھتی ہیں اور اس لحاظ سے رب بنی بیٹھی ہیں۔غرض اُس وقت دنیا میں ایک ایسے فساد کی حالت ہوتی ہے جس میں فسادات کا بظاہر نہ ختم ہونے والا ایک لامتناہی سلسلہ ہوتا ہے۔اُس وقت پھر خدا تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہار فرماتا ہے اور دنیا کو بتاتا ہے کہ وہ رب العالمین ہے۔اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے قول رب العالمین میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین پر ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے۔اور اس زمین پر جو ہدایت یافتہ جماعتیں یا گمراہ اور خطا کار گر وہ پائے جاتے ہیں وہ سب عالمین میں شامل ہیں۔کبھی گمراہی ، کفر فسق اور اعتدال کو ترک کرنے کا عالم بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ زمین ظلم وجور سے بھر جاتی ہے اور لوگ خدائے ذوالجلال کے راستوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور نہ عبودیت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں نہ ربوبیت کا حق ادا کرتے ہیں۔نہ یہ سمجھتے ہیں کہ بندے کی کیا حیثیت ہے۔نہ یہ پہچان رہتی ہے کہ ان کے رب کا کیا مقام ہے۔فرماتے ہیں کہ ” زمانہ ایک تاریک رات کی طرح ہو جاتا ہے اور دین اس مصیبت کے نیچے روندا جاتا ہے۔فرماتے ہیں کہ تب خدائے رحمان کی طرف سے ایک امام نازل ہوتا ہے تا کہ