خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 48

خطبات مسرور جلد هفتم 48 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 نشان میری تائید میں ظاہر کئے اور نصرت پر نصرت مجھے دی۔کیا مفتریوں کے ساتھ یہی سلوک ہوا کرتا ہے؟ اور دجالوں کو ایسی ہی نصرت ملا کرتی ہے؟ کچھ تو سوچو۔ایسی نظیر کوئی پیش کرو اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہرگز نہ ملے گی“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 89 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " پیغمبر صاحب کو تو یہ حکم کہ اگر تو ایک افتراء مجھ پر باندھتا تو میں تیری رگ گردن کاٹ دیتا۔جیسا کہ آیت وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيلِ۔لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِين سے ظاہر ہوتا ہے اور یہاں چوبیس سال سے روزانہ افتراء خدا پر ہو اور خدا تعالیٰ اپنی سنت قدیمہ کو نہ برتے۔بدی کرنے میں اور جھوٹ بولنے میں کبھی مداومت اور استقامت نہیں ہوتی۔آخر کار انسان دروغ کو چھوڑ ہی دیتا ہے۔لیکن کیا میری ہی فطرت ایسی ہو رہی ہے کہ میں چوبیس سال سے اس جھوٹ پر قائم ہوں اور برابر چل رہا ہوں اور خدا تعالیٰ بھی بالمقابل خاموش ہے اور بالمقابل ہمیشہ تائیدات پر تائیدات کر رہا ہے۔پیشگوئی کرنا یا علم غیب سے حصہ پانا کسی ایک معمولی ولی کا بھی کام نہیں۔یہ نعمت اس کو عطا ہوتی ہے جو حضرت احدیت مآب میں خاص عزت اور وجاہت رکھتا ہے۔“ الله ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 48-47 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر فرمایا: "اگر کوئی شخص تَقَولُ عَلَى الله کرے تو وہ ہلاک کر دیا جاوے گا۔خبر نہیں کیوں اس میں آنحضرت ﷺ ہی کی خصوصیت رکھی جاتی ہے۔کیا وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اگر تَقَولُ عَلَى الله کریں تو ان کو تو گرفت کی جاوے اور اگر کوئی اور کرے تو اس کی پرواہ نہ کی جاوے۔نعوذ باللہ اس طرح سے تو امان اٹھ جاتی ہے۔صادق اور مفتری میں ما بہ الامتیاز ہی نہیں رہتا۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 468 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض کرنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ آیات تو صرف آنحضرت کے لئے تھیں۔کسی اور کے لئے نہیں تھیں۔تو اس کی وضاحت فرمائی کہ کیا صرف اللہ تعالیٰ نے آنحضرت می کو پکڑنا تھا ؟ اور جو چاہے اللہ تعالیٰ کی طرف جو مرضی جھوٹ منسوب کرتا رہے اس کے لئے کوئی پکڑ نہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا معیار رکھا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا۔جو معیار خود اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے۔پس اس معیار پر ہر بچے کو پر کھنا چاہئے۔اسود عنسی یا مسیلمہ کذاب کا انجام تاریخ اسلام میں محفوظ ہے۔کیا پھر بھی مسلمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب پر تلے بیٹھے رہیں گے؟ پس اللہ تعالیٰ کے کلام سے ہنسی ٹھٹھا کرنے سے کم از کم وہ لوگ تو باز رہیں جو اس قرآن کریم پر ایمان لانے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُن لوگوں سے جو نہ صرف مسلمان ہونے کا دعویٰ کر کے بلکہ اس کلام پہ اپنا عبور حاصل کرنے کا دعویٰ کر کے،