خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد ہفتم 45 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 سے پاکستان کی عدلیہ کا یہ حال ہے۔ان سے تو ہمیں کوئی توقع نہیں ہے۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک رکھنے والے لوگ ہیں۔اسی سے مانگتے ہیں اور اسی کے آگے جھکتے ہیں اور یہی ہمارے لئے کافی ہے۔لیکن یہ لوگ ضرور اس پکڑ کے نیچے آئیں گے اور آ بھی رہے ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جواللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کو جھوٹا کہے گا۔پاکستان کے ارباب حل و عقد سے میں کہتا ہوں کہ اب بھی عقل کریں اور خدا تعالیٰ کے عذاب کو دعوت نہ دیں جس کے آثار ظا ہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے اس کو یہیں روک لیں اور اس کا واحد طریقہ صرف یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے معافی مانگ لیں۔ہم پر جو الزام دیتے ہیں تو اگر کوئی پیمانہ ہو جو یقینا نہیں ہے، آنحضرت ﷺ نے نفی فرما دی ہے کہ کوئی ایسا پیمانہ نہیں جو دلوں کے حال جانتا ہو تو۔بہر حال تم دیکھو کہ ہمارے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی محبت کا وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جس کے تم نزدیک بھی نہیں پہنچ سکتے۔پاکستان کی عوام سے بھی میں کہتا ہوں کہ ان نام نہاد ، خود غرض اور بکاؤ مولویوں کے پیچھے چل کر اپنی دنیا و عاقبت خراب نہ کریں۔خدا کے عذاب کو آواز دینے کی بجائے خدا کی پناہ میں آنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں، ہر احمدی کو ہمیشہ اپنی پناہ اور حفاظت میں رکھے اور ان لوگوں کے شر سے ہمیشہ بچائے۔پاکستان میں ہر تھوڑے عرصے کے بعد جیسا کہ مولوی مختلف اوقات میں بھڑکاتے رہتے ہیں، کسی نہ کسی احمدی کی شہادت ہوتی رہتی ہے اور یہ بھی اس ظالمانہ قانون کی وجہ سے ہے جو پاکستان کی حکومت نے بنایا ہوا ہے اور اسی قانون نے حقیقت میں ملک میں لاقانونیت کو رواج دے دیا ہے اور آج کل کوئی قانون ملک میں نظر نہیں آتا۔آج پھر میں ایک افسوسناک خبر سنا رہا ہوں کہ ہمارے ایک احمدی بھائی مکرم سعید احمد صاحب جو مکرم چوہدری غلام قادر صاحب اٹھوال کے بیٹے تھے، کوٹری شہر میں رہتے تھے ان کو وہاں شہید کر دیا گیا۔رات کو تقریباً 9 بجے جہاں وہ کام کرتے تھے وہاں سے واپس جارہے تھے کہ گھر کے دروازہ میں داخل ہوتے وقت کسی نے کنپٹی پر گن یا پسٹل رکھ کر فائر کیا جس سے آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بڑے خدمت خلق کرنے والے تھے۔ان میں خدمت خلق کا نمایاں جذبہ تھا۔کسی کی بیماری کا پتہ چلتا تو اس کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیتے۔نہایت سادہ طبیعت رکھنے والے مخلص انسان تھے اور محنتی بھی بڑے تھے۔ہر قسم کا کام کر لیتے تھے۔کوئی عار کبھی نہیں سمجھا۔مہمان نوازی کی صفت بھی بہت نمایاں تھی۔صبر اور حلم بھی بہت تھا۔کسی کو غصے میں بھی جواب نہیں دیا بلکہ خاموش رہتے تھے۔کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔گوندل فارم سندھ میں ہی آپ کی تدفین ہوئی ہے۔2 بیٹیاں اور 2 بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور بیوی بچوں کو صبر اور حوصلہ دے۔ابھی نمازوں