خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 593
خطبات مسرور جلد ہفتم 52 593 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 2009 فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2009ء بمطابق 25 فتح 1388 ہجری کشی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی: أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلِإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِّنْ رَّبِّهِ۔فَوَيْلٌ لِلْقَسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللَّهِ۔أولَئِكَ فِي ضَلَلٍ مُّبِينِ الزُّمَر : 23) یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے کہ پس کیا وہ کہ جس کا سینہ اللہ اسلام کے لئے کھول دے پھر وہ اپنے رب کی طرف سے ایک نور پر ( بھی ) قائم ہو ( وہ ذکر سے عاری لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے؟ ) پس ہلاکت ہو ان کے لئے جن کے دل اللہ کے ذکر سے ( محروم رہتے ہوئے) سخت ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو کھلی کھلی گمراہی میں ہیں۔ہدایت کی طرف لانا یا ہدایت دینا یہ بے شک خدا تعالیٰ کا کام ہے جیسا کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَنْ يَّشَآءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (القصص: 57 ) یعنی تو جس کو پسند کرے ہدایت نہیں دے سکتا لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔آنحضرت مے جس ٹو ر کو لے کر آئے، جو ہدایت دنیا کے سامنے رکھی ، جو شریعت قرآن کریم کی صورت میں آپ پر اتری، آپ کی خواہش تھی کہ دنیا اس ہدایت کو قبول کرے اور جو روشنی آپ پر اتری ہے اس روشنی سے حصہ لے کر اپنے دلوں کو منور کرے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے۔کیونکہ آپ کو علم تھا کہ یہ روشنی جو آپ پر اتری ہے اس کے انکار کی صورت میں منکرین عذاب الہی کے مورد بنیں گے اور آپ یہ جن کی طبیعت میں انسانیت کے لئے بہت زیادہ رحم تھا ، آپ ک یہ گوارا نہ تھا کہ کوئی انسان بھی ہدایت کے بغیر اس دنیا سے رخصت ہو کر عذاب پائے۔پس آپ کے دل کی یہ کیفیت تھی کہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر ، بے چین ہو کر خدا تعالیٰ کے آگے گریہ وزاری کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے۔دنیا کی بقا اور اللہ تعالیٰ کا عبد بنانے کے لئے یہاں تک آپ ﷺ کے دل کا اندر کا دردتھا کہ آپ کی بے چینی کو دیکھ کر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا