خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 589 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 589

589 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم حکم ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کہ باجماعت ادا کرو۔اس لئے مسجد تعمیر کرتے ہیں کیونکہ حقیقی نمازیں ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتی ہیں اور جو نمازیں اس سوچ کے ساتھ ادا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ( الماعون : 5 ) پس ان نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے جو اپنی نمازیں ظاہری حرکات کے لئے تو ادا کرتے ہیں اور اس مقصد کو بھول جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی کامل فرمانبرداری ہے۔پس قرآن کریم تو خود ہر قدم پر توجہ دلا رہا ہے اور توجہ دلا کر ایک حقیقی مسلمان کو اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کے راستے دکھا رہا ہے۔پھر ایک حقیقی مسلمان خدا تعالیٰ کی حمد کرنے والا بھی ہے اور حقیقی رنگ میں اللہ تعالیٰ کی حمد وہی کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو تمام صفات کا جامع سمجھتا ہو اور جو اللہ تعالیٰ کو تمام صفات کا جامع سمجھتے ہوئے اُن تمام احکامات پر عمل کرنے والا ہو جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔کیونکہ اگر وہ حقیقی مومن ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ ایسی حرکت کرے جو اسے خدا تعالیٰ کی رضا سے دور لے جانے والی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام محمد کے بارہ میں کہ یہ کیا چیز ہے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " تمام اقسام حمد کے ( جو تمام قسمیں ہیں حمد کی ) کہ کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے ہی مخصوص ہیں“۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 436) تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ سوچ رکھنے والے جب اس کے سامنے جھکتے ہیں ، اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں حتی کہ اپنے گھروں سے بھی اس کی رضا کے حصول کے لئے ہی نکلتے ہیں تو یہی لوگ ہیں جو پھر نیکیاں پھیلانے والے ہیں اور برائیوں سے روکنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی حدود کیا ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی حدود وہ تمام احکامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومنوں کو دیئے ہیں۔ایک منتقی کا یہی کام ہے کہ ان حدود کے دائرہ کے اندر رہے۔تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بشارت دیتا ہے۔یہ شور، یہ مخالفتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔یہاں اس حوالہ سے میں ایک یہ بات بھی آپ کو کہنا چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنے والوں کے لئے بھی بشارت ہے۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا، ان میں ایک تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی خاطر جہاد کے لئے نکلتے ہیں۔اس کے پیغام کی اشاعت کے لئے مصروف ہیں۔تبلیغ بھی ایک جہاد ہے۔اس کام کو سر انجام دے رہے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے حکم بھی فرمایا ہے اور توفیق بھی عطا فرما رہا ہے۔دوسرے وہ بھی ایک طرح اس میں شامل ہیں جن کے حالات اپنے ملکوں میں اس قدر تنگ کر دیئے گئے کہ انہیں ہجرت کرنی پڑی۔یہ بھی خدا تعالیٰ کا