خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 585 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 585

خطبات مسرور جلد هفتم 585 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 اس نے 14 ستمبر 1959 ء کی اشاعت میں لکھا کہ فرینکفرٹ میں ایک سفید مسجد بلند اور دلفریب میناروں کے ساتھ تعمیر ہو چکی ہے۔اسی طرح Abend Post نے لکھا کہ فرینکفرٹ میں اللہ کا گھر موجود ہے۔پھر ایک اخبار منہائم مورگن نے لکھا کہ اسلام یورپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔یہ ہیڈ نگ دے کے پھر تفصیل لکھی اور لکھا کہ محمد (ع) کے پیرو اس سے قبل تلواروں اور نیزوں کی مدد سے جنوبی فرانس تک آئے۔موجودہ زمانہ میں یہ کام روحانی ہتھیاروں سے ہو رہا ہے۔بہت سے اسلامی ممالک کے لوگ یورپ آتے ہیں جو ساتھ ساتھ اسلام پھیلانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح مختلف تبلیغی فرقے جن میں ایک فرقہ جس نے خاص طور پر مختلف جگہوں پر مساجد بنائی ہیں مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا ہے جو 1890ء میں پنجاب میں قائم ہوا۔بہر حال سال اس نے تھوڑا سا غلط لکھا ہے۔1889 ء کی بجائے 1890 لکھ دیا لیکن خبر بڑی تفصیل کے ساتھ دی۔لیکن یہ دیکھیں کہ جب جرمنی میں چند ایک جرمن احمدی تھے اس وقت اس مسجد اور اسلام کے حقیقی پیغام کی وجہ سے آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کو پریس نے عزت اور احترام کے ساتھ اپنی خبروں میں پیش کیا۔یہ ان کی شرافت تھی۔لیکن اب جب آپ کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ہے تو آپ کو پہلے سے بڑھ کر اسلام کے دفاع اور اس کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مساجد کے مینار جس طرح اس زمانے میں دلفریب تھے آج بھی اسی طرح دلفریب ہیں۔لیکن آج مغربی ممالک کے بعض لوگ اور سیاستدانوں کی انصاف کی نظر ختم ہوگئی ہے۔چند ایک کے جرم کو پوری اُمت کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔اسلام کے نام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بعض پریس کے نمائندہ بھی اور پریس میڈیا بھی اس میں غلط کردار ادا کرتا ہے۔مثلاً کل ٹی وی پر ایک خبر آ رہی تھی ( کل کی ہی تھی میرا خیال ہے ) کہ ایک شیخی شخص نے جو مسلمان تھا ( پوری طرح تو میں نے خبر نہیں سنی ) غالباً بر طانوی شہری تھا۔اس نے اپنی پندرہ سالہ بیٹی کو قتل کر دیا۔تو خبر اس طرح بیان ہورہی تھی کہ ایک مسلمان نے اپنی بیٹی کو قتل کر دیا۔جب کہ اس طرح کے جرائم مغرب کے باشندے بھی کرتے ہیں اور آئے دن اخباروں میں ان جرائم کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں بلکہ اس سے زیادہ بھیانک جرائم کی خبریں آرہی ہوتی ہیں۔لیکن یہ نہیں لکھا جاتا کہ فلاں عیسائی نے قتل کر دیا۔یا فلاں یہودی نے قتل کر دیا یا فلاں مذہب کے ماننے والے نے قتل کر دیا۔یا یہ جرم کیا ہے۔فلاں فلاں جرم کیا ہے۔لیکن اگر کوئی مسلمان جرم کرتا ہے تو اسلام کے حوالہ سے ضرور اس کا تعارف کروایا جاتا ہے۔یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اسلام کے خلاف ایک مہم ہے۔پس مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اپنی حالتوں کو بدلتے ہوئے اس مہم کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور اسلام کی حقیقی تصویر پیش کریں۔لیکن نہیں۔آج یہ کام ہر ایک کے بس کا نہیں ہے۔یہ کام جیسا کہ میں نے