خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 584
خطبات مسرور جلد هفتم 584 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 خوفزدہ کر دیتا تھا۔آج ٹی وی پر کھل کر وہاں سے اعلان کیا جاتا ہے کہ اگر سپینش لوگ امن چاہتے ہیں تو ان مسلمانوں جیسے بنیں جو اسلام کی خوبصورت تعلیم کو ساری دنیا میں پھیلا رہے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو امن اور محبت کا سمبل (Symbol) ہیں۔پس یہ انتہائی احمقانہ حرکت ہے کہ یہ قانون بنایا جائے کہ مساجد کے میناروں کی تعمیر روک دی جائے۔اگر فرض کر لیں کہ تمام مسلمان دہشت گرد ہی ہیں تو کیا مینار نہ بنانے سے یہ دہشت گر دی رک جائے گی ؟ نہایت بچگانہ باتیں ہیں۔مینار کا لفظ تو خودنور سے نکلا ہے اور اس کا مقصد جس کے لئے بنایا جاتا ہے یہ ہے کہ اونچی جگہ سے اذان کی آواز خدائے واحد کی عبادت کرنے والوں کو نماز کے لئے عبادت کے لئے بلانے کے لئے بلند کی جائے۔پہلے جب یہ بجلی اور لاؤڈ سپیکر کی سہولت نہیں تھی تو مینار پر کھڑے ہو کر ہی اذان دی جاتی تھی۔اب تو جو مینارے ہیں یہ ایک سمبل کے طور پر ہیں۔مسلمان ملکوں میں بعض جگہ لاؤڈ سپیکر لگا دئے جاتے ہیں جن سے اذان کی آواز سنائی دیتی ہے۔یہاں تو اس کی اجازت نہیں۔ان میناروں کا تو پھر بھی کچھ نہ کچھ مقصد ہے لیکن اگر یہ اعتراض کرنا چاہیں تو چر چوں کے گنبد ہیں یا کون ہیں ان پر بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے۔گو کہ ہمارا مقصد نہیں ہے اعتراض کرنا۔میں نے جو میناروں کا مقصد بتایا ہے جیسا کہ اذان کی آواز پہنچانا اور یہ اذان کیا ہے؟ اذان کے الفاظ میں خدا تعالیٰ کی بڑائی بیان کی جاتی ہے۔اس کی وحدانیت بیان کی جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ کے رسول ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔عبادت کی طرف بلایا جاتا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ یہی انسانی پیدائش کا مقصد ہے اور اسی میں انسان کی فلاح ہے۔اس لئے فلاح کی طرف آؤ۔وہ فلاح حاصل کرو جس سے تمہارا دین بھی سنور جائے اور آخرت بھی سنور جائے۔تمہاری دنیا بھی سنور جائے۔کتنا حسین اور ٹھوس پیغام ہے جو ان میناروں سے دیا جاتا ہے۔اس کے باوجود بھی کہ چہ چوں پر ہم اعتراض کر سکتے ہیں ، ہم نے اعتراض نہیں کیا، نہ کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ کسی کے مذہبی جذبات سے کھیلا جائے۔ہم تو ہر ایک کے معبد ہے یا مندر ہے یا چرچ ہے اس کی عزت کرتے ہیں کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں نہ صرف ان عبادت گاہوں کی عزت کرنے کا کہا ہے بلکہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر ڈالی ہے تا کہ دنیا میں محبت اور پیار کی فضا قائم ہو۔فرینکفرٹ کی اس مسجد کے افتتاح کے موقع پر ، آج سے پچاس سال پہلے اس مسجد کے مینار کے بارے میں جو اخبار نے لکھا تھا وہ ان اخبار نویسوں کی شرافت کی عکاسی کرتا ہے۔اس وقت جرمنی کے ستر سے زائد اخبارات نے مسجد کے افتتاح کی خبر میں شائع کیں۔مثلاً ایک اخبار ہے فرینکفرٹ رمشاؤ (Frankfurter Rundschah) (اگر میں نے تلفظ صحیح بولا ہے )