خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 583
583 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم ہمارے حق میں مسجد کے میناروں کے حق میں نعرے لگائے ، جلوس نکالے ، سڑکوں پر آئے اور کہا کہ یہ بالکل احمقانہ بات ہے کہ دوسروں کے مذہبی جذبات سے کھیلا جائے۔ایک سیاسی پارٹی کے نیشنل لیڈر نے اس ریفرنڈم سے یہ سمجھ کر کہ دوسری پارٹی نے اس ایشو سے اپنا ایک مقام حاصل کر لیا ہے اور اس کی کچھ اہمیت ہوگئی ہے یہ آواز بلند کرنی شروع کر دی کہ اب قانونی طور پر حجاب پر بھی پابندی لگنی چاہئے اور مزید پابندیاں بھی مسلمانوں پرلگنی چاہئیں۔لیکن اسی پارٹی کی زیورخ صوبے کی جو صوبائی برانچ تھی اس کے صدر اور اس پارٹی کے دوسرے لیڈروں نے اپنے اس نیشنل لیڈر کی اس بات پر سخت احتجاج کیا اور یہاں تک انہوں نے شور مچایا اور اس کو خطوط لکھے کہ اس نیشنل لیڈر کوئی وی پر آ کر معافی مانگنی پڑی۔اور اس کے بعد پھر اس پارٹی کا جو صو بائی لیڈر ہے اس نے ہمارے امیر صاحب سوئٹزر لینڈ کو ایک خط لکھا کہ یہ شخص ہمارا لیڈر ہے لیکن پٹڑی سے اتر گیا ہے۔اب ہم نے اس کو سیدھے رستے پر ڈال دیا ہے اور ہم ہیں جو مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔تو شرفاء ہر جگہ موجود ہیں جو آواز بلند کرنے والے ہیں۔تو میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ وہ کام ہے جو جماعت احمد یہ اسلام کے دفاع کے لئے ہر جگہ کر رہی ہے اور جماعت کے شور مچانے پر ہی ان سیاستدانوں کو بھی اس طرف توجہ پیدا ہوئی کہ اس قانون کے خلاف آواز بلند کریں۔اسلام کے جو نام نہاد ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ان کا تو صرف یہی کام ہے کہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہیں یا معصوموں کی جانوں سے کھیلتے رہیں اور اس کے باوجود پھر یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کی کیا ضرورت تھی اور ہمیں کسی لیڈر کی کسی روحانی لیڈر کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ ہمارے پاس آخری رسول حضرت محمد مصطفی ہے اور کتاب مبین کی صورت میں نور موجود ہے۔یہ سب ٹھیک ہے۔ہم بھی یہی کہتے ہیں بلکہ ان سے زیادہ ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں لیکن اس نور سے حصہ لینے کے لئے اللہ اور رسول میلے کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانہ میں ایک ایسے شخص کی ضرورت تھے جو اس ٹو رکو جذب کر کے پھر آگے پھیلائے۔پس اسلام کی یہ روشنی کے پھیلانے کا کام اب صرف اور صرف جماعت احمدیہ کا ہی مقدر ہے اور اسی کے ذمہ لگایا گیا ہے۔چنانچہ صرف سوئٹزر لینڈ میں ہی نہیں چین کے ایک بہت بڑے سیٹلائٹ چینل نے یہ خبر دی اور خبر کے ساتھ پیڈ رو آباد میں جو ہماری مسجد بشارت ہے اس کی تصویر دی اور مقامی لوگوں کے انٹر ویو دیئے اور سب نے یہ کہا کہ اس قسم کے قوانین جو ہیں یہ بڑے غلط قسم کے قوانین ہیں اور یہ بتایا کہ ہمارے علاقہ میں مسلمانوں کی یہ مسجد ہے یہاں سے تو امن و محبت کا پیغام پھیلانے والی آواز اٹھتی ہے۔بلکہ ایک شخص نے تو یہاں تک کہا کہ تم ان لوگوں سے Terrorism کی بات کرتے ہو، یا کسی قسم کی نفرت کی بات کرتے ہو ہمیں تو کہتا ہوں کہ اصل امن پسند یہ لوگ ہیں اور ہمیں بھی ان جیسا ہونا چاہئے۔یہ ایک انقلاب ہے جو دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت نے آپ سے تربیت پا کر پیدا فرمایا ہے کہ وہ ملک جہاں چند دہائیاں پہلے مسلمان سے سلام کرنا بھی شاید ایک دوسرے کو