خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 579 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 579

579 خطبه جمعه فرموده 11 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم نیکیوں سے پر بھی کرنا ہے )۔یہ عملی صراط مستقیم ہے۔یہ توحید حالی ہے۔کیونکہ موحد کی اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ تا اپنے دل کو غیر اللہ کے دخل سے خالی کرے اور تا اس کو فنافی تقدس اللہ کا درجہ حاصل ہو اور اس میں اور حق العباد میں جو عملی صراط مستقیم ہے ایک باریک فرق ہے اور وہ یہ ہے جو عملی صراط مستقیم حق النفس کا وہ صرف ایک ملکہ ہے جو بذریعہ ورزش کے انسان حاصل کرتا ہے اور ایک بالمعنی شرف ہے خواہ خارج میں کبھی ظہور میں آوے یا نہ آوے۔( جو عملی صراط مستقیم ہے یہ برائیوں کا ایک ملکہ ہے۔ظہور میں آوے نہ آوے سمجھ لیا کہ میرے دل سے خالی ہوگئیں۔لیکن حق العباد میں بعض دفعہ بعض انسانوں میں ان اخلاق کو دکھانے کے موقعے نہیں پیدا ہوتے لیکن انسان سمجھتا ہے کہ میرے اندر وہ اخلاق ہیں لیکن جب موقع آئے تو تب پتہ لگتا ہے کہ حق ادا ہو رہا ہے یا نہیں۔لیکن فرمایا کہ حق العباد میں حق النفس میں یہ باریک فرق ہے)۔فرمایا کہ حق العباد جو عملی صراط مستقیم ہے وہ ایک خدمت ہے اور سبھی متفق ہوتی ہے کہ جب افراد کثیرہ بنی آدم کو خارج میں اس کا اثر پہنچے اور شرط خدمت کی ادا ہو جائے“۔(اب یہ جو اعلیٰ اخلاق ہیں بندوں کے حقوق اس صورت میں ادا ہوں گے۔فرمایا یا عملی صراط مستقیم کا اظہار اس وقت ہوگا جب یہ ثابت ہو جائے کہ عملی طور پر اکثریت کو اپنے معاشرہ میں ان اعلیٰ اخلاق کا فیض پہنچ رہا ہے اور اثر پہنچ رہا ہے اور فائدہ پہنچ رہا ہے اور خدمت کی شرط جو ہے وہ ادا ہو رہی ہے )۔فرماتے ہیں : " غرض تحقق عملی صراط مستقیم حق العباد کا ادائے خدمت میں ہے اور عملی صراط مستقیم حق النفس کا صرف تزکیہ نفس پر مدار ہے“۔(اپنے نفس کی اصلاح کی طرف کوشش ہے۔لیکن اس کا اظہار بھی ہوتا ہے جب حقوق العباد ادا کئے جائیں۔تزکیہ نفس بھی تبھی پتہ لگتا ہے کہ ہوا ہے کہ نہیں جب حق العباد کی ادائیگی ہوتی ہے )۔کسی خدمت کا ادا ہونا ضروری نہیں۔یہ تزکیہ نفس ایک جنگل میں اکیلے رہ کر بھی ادا ہو سکتا ہے“۔( عبادات میں مشغول رہ کر بھی انسان تزکیہ نفس کر سکتا ہے )۔لیکن حق العباد بجز بنی آدم کے ادا نہیں ہو سکتا۔اسی لئے فرمایا گیا جورہبانیت اسلام میں نہیں“۔(رہبانیت کو اسلام میں اس لئے منع کیا گیا ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ادا ہوں۔تزکیہ نفس کر کے انسان حقوق اللہ تو جنگل میں بیٹھ کر بھی ادا کر سکتا ہے لیکن جنگل میں بیٹھ کر حقوق العبادادا نہیں ہو سکتے اور پھر اس وجہ سے صراط مستقیم کی علمی اور عملی صورت واضح نہیں ہوتی۔فرماتے ہیں کہ اب جاننا چاہئے جو صراط مستقیم علمی اور عملی سے غرض اصلی توحید علمی اور توحید عملی ہے۔یعنی وہ تو حید جو بذریعہ علم کے حاصل ہو اور وہ تو حید جو بذریعہ عمل کے حاصل ہو۔پس یاد رکھنا چاہئے جو قرآن شریف میں بجز تو حید کے اور کوئی مقصود اصلی قرار نہیں دیا گیا اور باقی سب اس کے وسائل ہیں۔احکام جلد 9 نمبر 33 مورخہ 17 ستمبر 1905 ء صفحہ 34 کالم 4)