خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 573
573 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 11 دسمبر 2009 چنانچہ دیکھ لیں قرآن کریم کے احکامات بھی سموئے ہوئے ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے جو آؤ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشورى : 41) اور بدی کا بدلہ اتنی ہی بدی ہے اور جو معاف کرے اور اصلاح کو مد نظر رکھے تو اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔پس یہ ہے اسلام کی سموئی ہوئی تعلیم جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی کہ سزا کا مقصد اصلاح ہے ، غلط کام کرنے والے کے اخلاق کی بہتری ہے۔اگر معاف کرنے سے اصلاح ہو جاتی ہے، اخلاق میں بہتری آسکتی ہے تو معافی ہونی چاہئے۔اور اگر سزا ہی اس کی اصلاح کا ذریعہ ہے تو سزا دینا ضروری ہے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ سزا اتنی ہی دی جائے جتنا کہ جرم ہے۔کسی طرح کا بھی ظلم نہ ہو۔اسلام کی تعلیم نہ تو یہ ہے کہ دائیں گال پر تھپڑ کھا کر بایاں بھی آگے کر دو اور نہ ہی یہ ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ ضرور نکالنی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلوؤں کی رعایت رکھی گئی ہے اور عفو اور انتقام کو مصلحت وقت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔سو یہی حکیمانہ مسلک ہے جس پر نظام عالم کا چل رہا ہے۔“ (نسیم دعوت روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 438) یہ بتانے کے بعد کہ تمہارے پاس ایک رسول آیا جس نے تمام پرانی باتیں اور نئی باتیں بھی کھول کر سامنے رکھ دیں۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَدْ جَاءَ كُم مِّنَ اللهِ نُورٌ وَكِتَبٌ مُّبِينٌ (المائدہ: 16) یقینا تمہارے پاس ایک رسول آچکا ہے اور ایک روشن کتاب بھی۔یہ ٹور جو یہاں بیان ہوا ہے یہ آنحضرت ﷺ کی ذات ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں۔اس کی مثال میں نے پہلے بھی پیش کی تھی کہ آنحضرت ﷺ کواللہ تعالی نے سِرَاجًا منيرا کہا ہے۔ایک روشن چمکتا ہوا سورج کہا ہے۔کیونکہ اب آپ ہی ہیں جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے نور نے آگے اپنی چمک دکھانی ہے اور اب کوئی نہیں جو اس واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کی روشنی اور نور کو حاصل کر سکے اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اور خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آخری زمانہ میں سب سے بڑھ کر اس شخص نے اُس نور سے حصہ پانا تھا جسے مسیح و مہدی کا اعزاز دیا گیا اور اس حیثیت سے امتی نبی ہونے کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔کیونکہ اب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انسان کامل، افضل الرسل اور سراجا منیرا کی مہر ، جو مہر نبوت ہے یہ جس پر لگے گی اُسے پھر اللہ تعالیٰ کے نور سے بھر دے گی۔پس آنحضرت ﷺ کی خاتمیت نبوت خدا تعالیٰ کے نوروں کو بند کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ نوروں کو مزید جلا بخشنے کے لئے اور صیقل کرنے کے لئے ہے۔پس یہ ہے مقام ختم نبوت کہ وہ ایسی روحانی روشنی ہے جو پھر اعلیٰ ترین روشنیاں پیدا کر سکتی ہے۔لیکن یہ واضح ہو کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس ٹور کے ساتھ کتاب مبین ہے جو پھر ایک نور ہے۔اس لئے اب قرآن کریم کے علاوہ جو کامل اور مکمل کتاب اور شریعت ہے کوئی اور کتاب اور شریعت نہیں اتر سکتی۔یہی ہم احمدی مانتے ہیں۔