خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 569
569 خطبه جمعه فرموده 4 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم روحانی ٹور کی صورت میں انبیاء کے ذریعہ ظاہر فرماتا ہے اور جس کا عظیم ترین معیار اور مقام جیسا کہ میں نے کہا آنحضرت ﷺ کی ذات ہے اور جس کا احیاء اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت اللہ کے عاشق صادق کے ذریعہ سے فرمایا ہے۔پس اب جہاں روحانی ترقیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جڑنے سے وابستہ ہیں وہاں دنیا وی امن کا قیام بھی مسیح موعود سے ہی وابستہ ہے کیونکہ آپ نے ہی آنحضرت می کہے کے اس ارشاد کو پورا فرمایا کہ دنیا کو پیار محبت اور صلح کی طرف بلاتے ہوئے ، اسے قائم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کے حقوق قائم کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے نور سے منور کریں اور دنیا کے امن کا ذریعہ بن جاتے جائیں۔آنحضرت کا یہ ارشاد تھا کہ يَضَعُ الْحَرُب ( بخاری جلد اول کتاب الانبیاء باب نزول عیسی بن مریم صفحہ 490 الناشر قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی) جب مسیح آئے گا تو جنگوں کا خاتمہ ہوگا اور اس يَضَعُ الْحَرُب کی وجہ سے پھر امن اور سلامتی کے پیغام بھی پھیلیں گے اور آپ کی تعلیم کی روشنی میں ہی ، آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں ہی دائمی سلسلہ خلافت نے اس کو پھر آگے بڑھاتے چلے جانا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تفسیر میں ٹور کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے اس نکتہ کو بھی بیان فرمایا ہے کہ اس نور کے دنیا میں انتشار کے لئے تین چیزیں ضروری ہیں۔نمبر ایک الوہیت ، اللہ تعالیٰ کی ذات دوسرے نبوت اور تیسرے خلافت - ( تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 320-319 مطبوعہ ربوہ ) اور جب تک مومن اپنے اندر ایمان اور اعمال صالحہ پر توجہ دیتے رہیں گے اس چیز کو اپنے اندر قائم رکھیں گے اس نور کا سلسلہ لمبا ہوتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم خدا تعالیٰ کے نور سے ہمیشہ فیضیاب ہوتے چلے جانے والے بنتے چلے جائیں اور کبھی ہم خدا تعالیٰ کے نور سے محروم نہ ہوں۔آج مسلم اُمہ بھی اگر اس حقیقت کو سمجھ لے، ہمارے جو باقی مسلمان بھائی ہیں اس حقیقت کو سمجھ لیں تو مغرب میں اسلام کے خلاف جو آئے دن ابال اٹھتا ہے اور کوئی نہ کوئی وبال اٹھتا ہی رہتا ہے اس کی بھی غیروں کو کبھی جرات نہ ہو۔وحدت میں ہی طاقت ہے اور اس کو قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے۔گزشتہ دنوں سوئٹزرلینڈ میں میناروں کے خلاف، مساجد کے میناروں کے خلاف بھی ایک شور اٹھا۔میناروں سے انہیں کیا تکلیف ہے یہ تو خدا بہتر جانتا ہے۔ان کے اپنے چرچوں کے بھی تو مینارے ہیں اور کیا ان میناروں کو گرانے سے اگر کوئی شدت پسند ہیں تو ان کی زندگی بدل جائے گی۔بہر حال یہ جو شور اٹھا ہے وہ بھی اسی اسلام دشمنی کی ایک کڑی ہے اور اس کے پیچھے بھی ایک گہری سازش نظر آتی ہے۔یہ ابتدا لگ رہی ہے اور مزید ان کے اور بھی مطالبے ہونے ہیں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور ان کے ہر شر سے اسلام کو بھی بچائے۔ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ اسلام کے دشمنوں کی ہر سازش کو نا کام ونا مراد کر دے۔الفضل انٹرنیشنل جلد 16 شماره 52 مورخہ 25 دسمبر تا 31 دسمبر 2009 صفحہ 5 تا 7)