خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 564 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 564

564 خطبہ جمعہ فرموده 4 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اونچی جگہ کی طرح ہے جس میں روشنی رکھی جاتی ہے اور یہ طاق آنحضرت میلے کا سینہ ہے اور اس طاق میں ایک مصباح ہے، ایک لیمپ ہے اور یہ لیمپ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو آنحضرت ملے پر اتری اور یہ لیمپ ایک زجاجہ میں ہے یعنی شیشہ کے گلوب میں ہے اور یہ گلوب آنحضرت ﷺ کا دل ہے جو نہایت صاف اور تمام کثافتوں سے پاک ہے اور یہ زجاجہ یا گلوب ستارے کی طرح چمکدار ہے اور خوب روشنی بکھیرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس سے مراد آنحضرت میا اللہ کا دل ہے ( براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 193) جس کے اندر کی روشنی بھی بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی نظر آتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنی مثال میں آگے بیان فرماتا ہے کہ یہ چراغ یا لیمپ زیتون کے شجرہ مبارکہ سے روشن ہے اور اس شجرہ مبارکہ سے مراد یہاں آنحضرت ﷺ کی مثال ہم سامنے رکھیں تو آنحضرت ﷺ کا وجود ہے جو تمام کمالات اور برکات کا مجموعہ ہے جو تا قیامت قائم رہے گا۔اس لئے قائم رہے گا کہ آنحضرت یہ ہی ہیں جو انسان کامل کہلائے اور قیامت تک آپ ﷺ جیسا کوئی پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس مثال میں شرقی یا غربی نہ ہونے سے مراد اسلام کی تعلیم ہے۔جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط ہے۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 193) نہ ایک طرف جھکاؤ ہے۔نہ سوشلزم یا کمیونزم ہے نہ کپٹلزم ہے۔بلکہ ایک درمیانی تعلیم ہے جو انسانی حقوق کو واضح کرتی ہے۔دنیا کے امن کو قائم کرتی ہے اور اس مثال میں جو یہ فرمایا کہ قریب ہے وہ تیل از خود روشن ہو جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اس سے مراد عقل لطیف نورانی محمد ﷺ ہے (براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 193) اور اسی طرح تمام اخلاق فاضلہ ہیں جو آپ کی فطرت کا حصہ بن چکے ہیں۔اور نُورٌ عَلَی نُور سے مراد یہ ہے کہ ان تمام خصوصیات کے حامل انسانِ کامل پر جب خدا تعالیٰ نے اپنا نور ڈالا یعنی نو روحی تو روحانی دنیا میں وہ نور پیدا ہوا جس کی کوئی مثال نہیں۔پس یہ ہے خلاصہ اس ساری تفسیر کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے۔(خلاصہ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 198-191) پہلے بھی میں ایک دفعہ تفصیل سے بیان کر چکا ہوں۔اب حقیقی نور صرف اور صرف آنحضرت ﷺ پر اتری ہوئی شریعت اور آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ میں ہے۔اور تمام پرانی شریعتیں اب اس کامل انسان اور جو نُورٌ عَلی نُور ہو چکا ہے کے آنے کے بعد ختم ہو چکی ہیں اور اب یہی تعلیم ہے اور یہی نور ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور سے فیضیاب کرنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کے اس مقام کو جو انسان کامل ہونے کا مقام ہے - ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔وہ ملائک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا، قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں