خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 562 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 562

خطبات مسرور جلد ہفتم 562 خطبہ جمعہ فرموده 4 دسمبر 2009 ہے جو الہی امور میں بکھرا پڑا ہے جیسے نور عقل اور ٹور قرآن۔دوسرے وہ نور جس کو جسمانی آنکھ کے ذریعہ سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔اہل لغت اس کے معنے بیان کرتے ہوئے بعض آیات کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔مثلاً نور الہی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ قَدْ جَاءَ كُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَبٌ مُّبِينٌ (المائدة: 16) یعنی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نو ر اور کتاب مبین آچکی ہے۔اسی طرح فرمایا: جَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِى النَّاسِ كَمَنُ مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمْتِ لَيْسَ بِخَارِجِ مِنْهَا (الانعام : 123) اور ہم نے اس کے لئے روشنی کی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے۔کیا ایسا شخص اس جیسا ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں ہو اور اس سے نکل نہ سکے۔بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنا نام نور رکھا ہے تو وہ اس اعتبار سے ہے کہ وہی منور ہے یعنی ہر چیز کو روشن کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ کا نام نو ر اس وجہ سے ہے کہ وہ یہ کام یعنی روشن کرنا بہت زیادہ کرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔پھر اس آیت کی مثال دی گئی ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ یعنی اللہ ہی ہے جس کے نور سے آسمانی اور زمینی حقائق الاشیاء کا علم ہوتا ہے اور وہ اپنے ولیوں کو پھر اس نور سے منور کرتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنے آپ کونُورُ السَّمواتِ وَالاَرضِ کہا ہے اور اس کی مثال جیسا کہ میں نے بتایا اہل لغت نے دی ہے۔تو اس آیت میں اپنے اس ٹور کی مثال دے کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔لیکن یہ ٹور انسانوں پر پڑتے ہوئے انہیں کس طرح منور کرتا ہے۔یہ سورۃ نور کی آیت ہے یہ بھی چند ماہ پہلے میں ایک جگہ بیان کر چکا ہوں۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ ـرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِى ءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ۔نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللهُ لِنُورِهِ مَنْ يَّشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ( النور : 36) یعنی الله آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔وہ چراغ شیشہ کے شمع دان میں ہو۔وہ شیشہ ایسا ہو گویا کہ ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔وہ (چراغ ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو نہ مغربی۔اس (درخت) کا تیل ایسا ہے کہ قریب ہے کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے خواہ اسے آگ کا شعلہ نہ بھی چھوا ہو۔یہ نور علی نور ہے۔اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔اس آیت کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی روشنی میں جیسا کہ میں نے بتایا چند ماہ