خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 557
557 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم آپ فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَاذَنْتُهُ للعرب یعنی جو شخص میرے ولی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے وہ گویا میرے ساتھ جنگ کرنے کو تیار ہوتا ہے۔فرمایا کہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی کے ساتھ محبت کرتا ہے اور محبت بھی ایسی جیسے کوئی اپنی اولاد سے کرتا ہے اور ہر ایک دوسرا شخص بار بار کہے کہ یہ شخص مر جائے یا اس کی نسبت اور اسی قسم کی دلآزاری کی باتیں کہے اور اسے تکلیف دے تو وہ شخص ایسی باتوں سے خوش ہو سکتا ہے اور وہ باپ جس کے بچے کے لئے کوئی شخص بددعائیں کر رہا ہو یا دیگر رنجیدہ کلمات اس کے بچے کے لئے استعمال کر رہا ہوا ایسے شخص سے کب محبت کر سکتا ہے۔اسی طرح پر اولیاء اللہ بھی اطفال اللہ کا رنگ رکھتے ہیں ( اللہ کے جو اولیاء ہوتے ہیں، اللہ کے بچوں کی طرح کا رنگ رکھتے ہیں )۔کیونکہ انہوں نے جسمانی بلوغ کا چولہ اتارا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پرورش پاتے ہیں۔وہ خود ان کا متولی اور متکفل اور ان کے لئے غیرت رکھنے والا ہوتا ہے۔جب کوئی شخص خواہ وہ کیسا ہی نماز روزے رکھنے والا ہو ان کی مخالفت کرتا ہے اور ان کے دکھ دینے پر کمر بستہ ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش مارتی ہے اور ان کی مخالفت کرنے والوں پر اس کا غضب بھڑکتا ہے۔اس لئے کہ انہوں نے اس کے ایک محبوب کو دکھ دینا چاہا ہے۔اس وقت پھر نہ وہ نماز کام آتی ہے اور نہ وہ روزہ۔کیونکہ نماز اور روزہ کے ذریعہ سے اسی ذات کو خوش کرنا تھا جس کو ایک دو سرے فعل سے ناراض کر لیا ہے۔( نماز روزہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے تھی لیکن اللہ تعالیٰ کے پیاروں کو تکلیف دے کر جو کام کیا اس سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر لیا)۔فرمایا کہ پھر وہ رضا کا مقام کیونکر ملے۔جب تک غضب الہی دور نہ ہو۔وہ اولیاء اللہ کا مخالف نادان ان اسباب غضب سے ناواقف ہوتا ہے بلکہ اپنے نماز روزے پر اسے ایک ناز اور گھمنڈ ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا غضب دن بدن بڑھتا جاتا ہے اور وہ بجائے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے دن بدن اللہ تعالیٰ سے دور ہٹتا جاتا ہے یہاں تک کہ بالکل راندہ درگاہ ہو جاتا ہے۔وہ شخص جو بالکل فنا کی حالت میں ہے اور آستانہ الوہیت پر گرا ہوا ہے اور آغوش ربوبیت میں پرورش پا رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت نے اسے ڈھانپ لیا ہے۔یہاں تک کہ اس کا بات کرنا اللہ تعالیٰ کی بات کرنا ہوتا ہے اور اس کا دوست خدا تعالیٰ کا دوست اور اس کا دشمن خدا تعالیٰ کا دشمن ہو جاتا ہے۔پس ایسے مومن کامل کا دشمن رہ کر کوئی شخص کیونکر مومن کامل ہو سکتا ہے اور ایسے ہی مومن کامل کی دشمنی سے اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے اور اسے مَغضُوبِ عَلَيْهِمُ میں سے بنا دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ماموروں اور اولیاء اللہ کی مخالفت اور ان کی ایذاء رسانی کبھی اچھا پھل نہیں دے سکتی۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں ان کوستا کر اور دکھ دے کر بھی آرام پا سکتا ہوں وہ سخت غلطی کرتا ہے اور اس کا نفس اسے دھو کہ دے رہا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 230-229 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )