خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 556

556 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کی مثال سے دینی پڑی۔اس پر اس شخص نے مجلس کے مسلمانوں کو اشارہ کیا اور اس میں سے ایک ملاح نے جو وہاں جموں کے ایک گھاٹ کا ٹھیکیدار تھا اور بڑا زبان دراز تھا یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا کی مثال نبیوں سے دیتا ہے؟ اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اور مجھے سخت گندی گالیاں دینی شروع کر دیں اور مجھے گلے سے پکڑ لیا اور خوب مارا۔یہاں تک کہتے ہیں کہ بہت برا حال کیا میرا۔اس وقت مجھے اپنی کسی رسوائی اور تکلیف کی تو حس نہیں تھی مگر حضور کی شان میں اس کی بد زبانی سے سخت درجہ دکھ ہوا اور اکثر حصہ رات کا بے چینی میں گزرا۔خدا تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ رات کو یکدم بارش ہوئی اور زور کی بارش ہوئی اور انگلی صبح کے اول وقت میں اس ملاح کے دروازے کے سامنے تھانیدار اور سپاہی کھڑے ہوئے سخت گندی گالیاں دے رہے تھے اور اس کو گھر سے نکلنے کے لئے بلا رہے تھے جب وہ نکلا تو اس کو ہتھکڑی لگا کر تھا نہ میں لے گئے۔اس شخص کو جولڑا تھا ان سے۔کہتے ہیں یہاں اس بات کا ذکر بھی کر دینا ضروری ہے کہ ریاست کے تھانیدار گورنمنٹ انگریزی کے تھانیداروں کی طرح نہیں ہوتے اس وقت کے رواج کے مطابق جابر سخت گیر اور بے باک ہوا کرتے تھے اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کس قدر مخش کلامی کی ہوگی۔اور واقعہ یوں ہوا کہ ٹھیکیدار پابند ہوتے ہیں کہ رات کے وقت دریا عبور کر کے کشتیاں نہ چلائیں لیکن اس کے آدمیوں نے جو کشتی رات کو استعمال کرتے تھے کی اس رات اور بارش اور طوفان کی وجہ سے اس میں جو بیٹھی ہوئی تھیں عورتیں وہ ڈوب گئیں جس کی وجہ سے پولیس کو اطلاع ہوئی اور پولیس نے آکے اس کو مارا پیٹا بھی اور گالیاں بھی دیں اور پکڑ کے بھی لے گئے۔کہتے ہیں اس شوخی کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دکھائی تھی فوری مزا چکھ لیا۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد 6 صفحہ 134-133 جدید ایڈیشن مطبوعہ قادیان) ماسٹر عبدالرحمن صاحب نے سنایا کہ ایک دفعہ میں قادیان کے ہند و بازار میں سے گزرا بے پناہ گرمی پڑ رہی تھی۔چند ہندوؤں نے کہا کہ آپ ہر روز دعا کی برکات بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے۔آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آج بارش برسا دے تا گرمی دور ہو۔آپ نے ان کے طنز و تمسخر کو بری طرح محسوس کیا ( وہ دعا کے لئے نہیں کہہ رہے تھے بلکہ تمسخر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے مذاق اڑاتے ہوئے ) اور آپ کی غیرت جوش میں آئی۔آسمان بالکل صاف تھا آپ مسجد اقصیٰ میں جا کر اس وقت تک دعا میں مصروف رہے جب تک بارش کی وجہ سے آپ کے کپڑے گیلے نہ ہو گئے۔فرماتے تھے کہ میں ہندوؤں سے جب بھی اس نشان کا ذکر کرتا تو وہ شرمندہ ہو کر آنکھیں نیچی کر لیتے۔( اصحاب احمد جلد 7 صفحہ 135 جدید ایڈیشن مطبوعہ قادیان) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔واقعات تو بہت ہیں بیان کرنے کا وقت نہیں ملے گا۔ایک اقتباس پڑھنا چاہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کا۔