خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 547

خطبات مسرور جلد ہفتم 547 (48) خطبہ جمعہ فرمودہ 27 نومبر 2009 فرمودہ مورخہ 27 نومبر 2009ء بمطابق 27 رنبوت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ چند جمعوں سے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں میں ولی کے مضمون کو خطبات میں بیان کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ہمارا والی ہے اور مولیٰ ہے اور کس کس طرح اپنی اس صفت کا اظہار فرماتا ہے اور ایک انسان کو اللہ تعالیٰ کا ولی اور دوست کس طرح بننا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے قرب کا سب سے اعلیٰ مقام حضرت محمد مصطفی امیے کو ملا اور اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کہ نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ۔وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدْعُونَ ( حم سجدہ:33-31) ہم اس دنیوی زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہو گا جس کی تمہارے نفس خواہش کرتے ہیں اور اس میں تمہارے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو تم طلب کرتے ہو۔اس کے سب سے پہلے مخاطب آنحضرت ﷺے ہی ہیں ، سب سے پیارے تو خدا تعالیٰ کے آپ ہی ہیں۔زمین و آسمان آپ کی خاطر پیدا کیا گیا۔آپ کی پیدائش سے وفات تک اللہ تعالیٰ آپ کے ولی ہونے کے ہر دم نظارے دکھاتا رہا۔آپ کی خواہش کی آپ کی زندگی میں تکمیل ہوئی۔شریعت کامل ہوئی اور خاتم الانبیاء کہلائے اور آپ کا سلسلہ یہ آج تک بھی قائم و دائم ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ سے يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: 68 ) کا وعدہ فرمایا تو ہرسختی اور مشکل میں آپ کی حفاظت فرماتے ہوئے ہر قسم کے نقصان سے بچایا۔بلکہ ہجرت کے وقت جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پکڑے جانے کے خدشہ اور خوف کا اظہار فرمایا تو لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا (التوبة : 40 ) کہ خوف نہ کرو جو ہمارا آقا اور مولیٰ ہے جو ہمارا اللہ ہے، جو ہمار اولسی ہے وہ ہمارے ساتھ ہے، یہ کہہ کر ان کی تسلی کرائی۔پس اللہ تعالیٰ کے مومنین کے لئے ویسی ہونے کے نظارے بھی آپ کی قوت قدسی کی وجہ سے آپ کے ماننے والوں کو بھی نظر آئے اور حضرت ابو بکر صدیق کا تو آپ کا خاص ساتھی ہونے کی وجہ سے ایک خاص مقام تھا۔انہوں نے تو ہر آن دیکھے ہی ، عمومی طور پر بھی صحابہ نے اللہ تعالیٰ کے ولی بن کر اس کے ولی ہونے کے نظارے دیکھے۔اور آج تک آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ یہ نظارے دکھاتا چلا جارہا ہے۔ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونے والے یہ نظارے دیکھتے ہیں۔