خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 526
526 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 6 نومبر 2009 وصیت کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے وہاں تحریک جدید میں بھی اضافہ ہوا ہے۔یعنی یہ بنیا د ایسی ہے جو خود بھی پھیلتی چلی جا رہی ہے اور نئے دفتر پنجم میں شاملین کی تعداد میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وصیت کرنے والوں کے بچے اور آئندہ جو ہماری نئی نسل آرہی ہے بچپن سے لڑکپن میں یا 7 سال کی عمر میں، اطفال الاحمدیہ میں شامل ہورہے ہیں وہ بھی تحریک جدید میں قربانی کر کے آئندہ کے لئے اپنے آپ کو وصیت کے لئے بھی تیار کر رہے ہیں اور قربانیوں کے لئے بھی تیار کر رہے ہیں۔دنیا کہتی ہے اور معیشت دان یہ کہا کرتے ہیں کہ جب معاشی کرائسز آتے ہیں تو غربت کا ایک شیطانی چکر جو ہے وہ شروع ہو جاتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ جنہیں خیر امت بناتا ہے ان کے لئے معاشی کرائسز کے باوجود چندوں میں اضافہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو سمیٹنے اور نیکیوں کی طرف مائل ہونے کا ذریعہ بنتا ہے۔اور یوں ہمارا رحمان خدا ہمیں اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے اور فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات کا ادراک ہم میں پیدا ہوتا ہے اور جب تک ہم نیکیوں میں بڑھتے چلے جانے کی سوچ کو منتقل کرتے چلے جائیں گے، روشن کرتے چلے جائیں گے، چمکاتے چلے جائیں گے، خیر امت کہلانے والے بنے رہیں گے انشاء اللہ۔ایک معمولی قربانی کرنے والا غریب آدمی اور ایک بچہ جو چند پیس (Pense) اپنے جیب خرچ میں سے دیتا ہے وہ اس قربانی کی وجہ سے تبلیغ اسلام اور تعمیر مساجد اور نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کو روکنے میں حصہ دار بنتا چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہم میں اور ہماری نسلوں میں قربانی کی یہ روح ہمیشہ قائم رکھے اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اس کے انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شماره 48 مورخہ 27 نومبر تا 3 دسمبر 2009 صفحہ 5 تا صفحہ 8