خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 514
514 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 30 اکتوبر 2009 وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ۔وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهُ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَلِبُونَ (المائدة: 56-57) یقیناً تمہارا دوست اللہ ہی ہے اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور خدا کے حضور جھکے رہنے والے ہیں۔اور جو اللہ کو دوست بنائے اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے تو اللہ ہی کا گروہ ہے جو ضرور غالب آنے والا ہے۔یہ وہی باتیں ہیں۔اس میں رَاكِعُونَ کا لفظ آیا ہے اور راكِعُونَ کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور خالصتاً اس کے حضور جھکتے ہوئے سب کچھ اسی کو سمجھنے والے ہوں۔کسی بھی قسم کا شرک ،کسی بھی قسم کی دوسری ملونیاں ان کے دین میں شامل نہ ہوں۔تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا دوست اور ویسی ہے اور اس کا رسول بھی اور مومن بھی اور مومنین کی یہی جماعت ہے جس نے پھر غالب آنا ہے اور اسی کے لئے غلبہ مقدر ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے جو دوست ہیں اللہ تعالیٰ کے جو ولی ہیں اللہ تعالیٰ ان کا ولی ہو جاتا ہے اور ان کو یقیناً غالب کرتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ہو نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( یہ حدیث قدسی ہے ) جس نے میرے ولی سے دشمنی اختیار کی تو میں نے اس کے ساتھ اعلان جنگ کر دیا۔مجھے یہ چیز سب سے زیادہ پسند ہے کہ میرا بندہ فرض کی ہوئی چیزوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرے۔( فرائض کیا ہیں؟ قرآن کریم میں تلاش کرنے ہوں گے فرائض۔اور سب سے زیادہ فرض عبادات ہیں۔روزانہ کی نمازیں ہیں ) اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرے قریب ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اسے پیار کرنے لگتا ہوں اور جب میں اسے پیار کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کروں گا اور اگر وہ میری پناہ چاہے گا تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا۔کسی چیز کے کرنے میں مجھے کبھی تردد نہیں ہوا ( جیسا ) ایک مومن کی جان نکالتے ہوئے تر در ہوتا ہے وہ موت کو نا پسند کرتا ہے۔اور اسے تکلیف دینا مجھے نا پسند ہے۔( صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع۔حدیث نمبر 6502 ) تو اللہ تعالیٰ اس طرح اپنے بندوں کا خیال اور لحاظ رکھتا ہے۔پس اگر خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکا جائے۔اس کے حقوق ادا کئے جائیں۔اس کے حکموں پر عمل کیا جائے۔تقویٰ کو ہمیشہ پیش نظر رکھا جائے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا پھر مولیٰ بنتا ہے۔جیسا کہ حدیث سے بھی ہمیں واضح ہوا۔پھر اس کی ہر حرکت و سکون میں اللہ تعالیٰ کا عمل دخل شامل ہو جاتا ہے۔اللہ کرے کہ ہم نیکیوں پر قدم مارتے ہوئے اپنے حقیقی آقا و مولیٰ سے ہمیشہ جڑے رہیں تا کہ ہر آن ہم اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھتے چلے جائیں۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شماره 47 مورخہ 20 نومبر تا 26 نومبر 2009 صفحہ 5 تا صفحہ 7