خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 511
511 خطبہ جمعہ فرموده 30 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم خدا تعالیٰ کی تقدیر کے حوالے سے نہیں دیکھاتی۔لیکن مذہبی تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔قرآن کریم کھول کھول کر اس بات کو ہمارے سامنے بیان فرماتا ہے کہ جب برائیاں قوموں میں جنم لینے لگتی ہیں۔جب نیکیاں مفقود ہونا شروع ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی امان اور حفاظت اٹھ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ ایک دفعہ تم نے کلمہ پڑھ لیا تو ہمیشہ کے لئے پناہ میں آگئے۔اللہ تعالیٰ نے ایک اصولی بات بتا کر ہوشیار کر دیا کہ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلحت اصل شرط ہے۔یہاں اس حصہ آیت میں تو یہ بیان نہیں ہوئی۔دوسری بے شمار جگہ قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے کہ ایمان لانے کے بعد جو نیک اعمال ہیں وہ اصل شرط ہیں۔پس آج پوری امت کے لئے اور خاص طور پر ان مسلمان ملکوں کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے جو ظلم و تعدی میں بڑھ رہے ہیں۔شرفاء کوختم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انگلی بات فرمائی اور اس پر آجکل غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے خاص طور پر پاکستانیوں کو تو تو بہ اور استغفار کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلا مَرَدَّ لَهُ كه جب الله تعالیٰ کسی قوم کے بدانجام کا فیصلہ کر لے تو اسے ٹالنا ممکن نہیں۔پس ضرورت ہے کہ کسی آخری فیصلہ سے پہلے اپنی حالتوں کو پھر نیکیوں کی طرف لانے کی کوشش کی جائے۔کاش ہمارے لوگ یہ سمجھ لیں۔ملک کے لوگوں کو اس کی عقل آجائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ انسان کو عذاب ہمیشہ گناہ کے باعث ہوتا ہے۔خدا فرماتا ہے إِنَّ اللهَ لَايُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ (الرعد: 12) اللہ تعالی کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ کرئے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 232 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ ”جب لوگوں نے اپنے افعال اور اعمال سے غضب الہی کے جوش کو بھڑ کایا اور بدعملیوں سے اپنی حالتوں کو ایسا بدل لیا کہ خوف خدا اور تقویٰ و طہارت کی ہر ایک راہ کو چھوڑ دیا اور بجائے اس کے طرح طرح کے فسق و فجور کو اختیار کر لیا اور خدا تعالیٰ پر ایمان سے بالکل ہاتھ دھو دیا۔دہریت اندھیری رات کی طرح دنیا پر محیط ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی چہرے کو ظلمت کے نیچے دبا دیا تو خدا نے اس عذاب کو نازل کیا تا لوگ خدا کے چہرے کو دیکھ لیں اور اس کی طرف رجوع کریں“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 37 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس خدا تعالیٰ کے عذاب کسی بھی رنگ میں آئیں، اس وقت آتے ہیں جب یہ کیفیت ہوتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ ”جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لئے تبدیلی ہو۔یعنی وہ ان عذابوں اور دکھوں سے رہائی پائے جو شامت اعمال نے اس کے لئے تیار کئے ہیں اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔