خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 502
502 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 2009 دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔( تذکرہ صفحہ 112۔ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ) یہ ایک اور الہام ہے کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا ( تذکرہ صفحہ 260 ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) اور اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔یہ الہام 1886ء میں ہوا ہے۔اس وقت قادیان کی کیا حالت تھی۔کوئی ذرائع نقل و حمل اور رسل و رسائل نہیں تھے۔کسی قسم کی سفر کی ٹرانسپورٹ کی ، کمیونیکیشن (Communication) کی صورت موجود نہیں تھی۔سواری لینے کے لئے پیدل یا ٹانگہ پر چڑھ کے بٹالہ جانا پڑتا تھا۔قادیا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا کسی کا اس طرف آنا نہیں تھا اور اس گاؤں سے آپ نے ایک دعویٰ کیا۔اس وقت لوگ اس دعوی کو سن کر ہنتے ہوں گے اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی دعوت دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی ہے۔اعتراض کرنے والے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کون سی بڑی بات ہے کہ ہم بھی اپنی ویب سائٹس کے ذریعہ سے یا اپنے ٹی وی چینلز کے ذریعہ سے اپنے پروگرام جو احمدیت کے خلاف ہیں یا اسلام کی جو بھی تھوڑی بہت تبلیغ کرتے ہیں دنیا کے کناروں تک پہنچا رہے ہیں۔تو اگر یہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے یا تبلیغ کے ذریعہ سے پہنچ گئے تو یہ تو کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے۔لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا کسی نے ان وسائل کے نہ ہوتے ہوئے ، ان وسائل کے شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر یہ اعلان کیا تھا؟ کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔یا میں تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔یا سو سال پہلے تو بڑی بات ہے اب بھی شروع کرنے سے چند مہینے یا سال پہلے کسی نے یہ اعلان کیا ہو کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میں تمہارے اس کام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اگر تو کوئی یہ دعوی کرتا ہے تو کھل کے اعلان کرے کہ ہاں مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا تھا کہ یہ میرا پیغام ہے دنیا تک پہنچاؤ۔ویب سائیٹ کے ذریعہ پہنچاؤ یا ٹی وی چینل کے ذریعہ پہنچاؤ اور میں تمہاری مدد کروں گا لیکن کبھی کوئی سامنے نہیں آسکتا۔ویسے ہر بات پر اعتراض کرنا تو بڑا آسمان ہے اور آجکل کے سکالرز اور علماء کا یہی حال ہے کہ بیٹھے بٹھائے جو چاہامنہ میں آیا اور اعتراض کر دیا۔یہ اصل میں حسد کی آگ ہے جواب برداشت نہیں ہو رہی۔جس کی وجہ سے دشمنیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔جماعت کو پھیلتا ہوا دیکھ کر اندر ہی اندر سلگتے چلے جا رہے ہیں اور حسد کی یہ آگ پیدا ہونی ہی تھی کیونکہ اس کے بارہ میں خدا تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ نور سے ظلمات کی طرف جائیں گے۔جب بھی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کا دعویٰ ہوگا مخالفین کھڑے ہوں گے اور وہ مخالفین اگر کوئی عقل رکھتے بھی تھے تو اس مخالفت کی وجہ سے پھر ان کی عقل ماری جائے گی اور روشنیوں کی بجائے وہ اندھیروں میں گم ہوتے چلے جائیں گے اور پھر اَصْحَبُ النَّار بنتے چلے جائیں گے۔اللہ رحم کرے اور ان لوگوں کو عقل دے۔ہمارا تو اللہ مولیٰ ہے اور ہر قدم پر اپنے ولی ہونے اور دوست ہونے کا اور مددگار ہونے کا اور نگران ہونے کا