خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 500

500 خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پیش کرتا ہوں جو ہماری جماعت کے لٹریچر میں اکثر موجود ہیں بلکہ یہ ان کی اپنی کتابوں میں موجود ہیں اور ان کو ہم پیش کرتے ہیں۔حضرت محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ وہ نبوت جو آنحضرت کے وجود پر ختم ہوئی وہ صرف تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت۔پس آنحضرت کی شریعت کو منسوخ کرنے والی کوئی شریعت نہیں آسکتی اور نہ اس میں کوئی حکم بڑھا سکتی ہے اور یہی معنی ہیں آنحضرت صلعم کے اس قول کے کہ رسالت اور نبوت منقطع ہوگئی اور لَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَسی یعنی میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شریعت کے خلاف کسی اور شریعت پر ہو۔ہاں اس صورت میں نبی آ سکتا ہے کہ وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت آئے اور میرے بعد کوئی رسول نہیں یعنی میرے بعد دنیا کے کسی انسان کی طرف کوئی ایسا رسول نہیں آسکتا جو شریعت لے کر آوے اور لوگوں کو اپنی شریعت کی طرف بلانے والا ہو۔پس یہ وہ قسم نبوت ہے جو بند ہوئی اور اس کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔ورنہ مقام نبوت بند نہیں۔( فتوحات مکیہ جلد 2 صفحہ 6 الباب الثالث والسبعون في معرفته عدد ما تحصل من الاسرار۔۔۔۔داراحیاء التراث العربی بیروت طبع اول) پھر ان کا ایک اور حوالہ ہے کہ نبوت کلی طور پر اٹھ نہیں گئی۔اسی وجہ سے ہم نے کہا تھا کہ صرف تشریعی نبوت بند ہوتی ہے۔یہی معنی ہیں لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے۔پس ہم نے جان لیا کہ آنحضرت ﷺ کا لا نَبِيَّ بَعْدِی فرمانا انہی معنوں سے ہے کہ خاص طور پر میرے بعد کوئی شریعت لانے والا نہ ہو گا۔کیونکہ آنحضرت صلعم کے بعد اور کوئی نبی نہیں۔(فتوحات مکیہ جلد 2 صفحہ 73 الباب الثالث والسبعون في معرفة عدد ما تحصل من الاسرار۔۔۔۔دار احیاء التراث العربی بیروت طبع اول) یہ بعینہ اسی طرح ہے جس طرح آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ جب یہ قیصر ہلاک ہو گا تو اس کے بعد قیصر نہ ہوگا اور جب یہ کسری ہلاک ہو گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہ ہوگا۔( صحیح بخاری کتاب الایمان والنذ ور باب کیف کانت یمین النبی حدیث 6630) حضرت امام شعرائی فرماتے ہیں کہ وَقَوْلُهُ صَلَعَمُ فَلا نَبِيَّ بَعْدِى وَلَا رَسُولَ الْمُرَادُ بِهِ لَا مُشَرِّعَ | بعدی کہ آنحضرت صلعم کا یہ قول کہ میرے بعد نبی نہیں اور نہ رسول۔اس سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں۔الیواقیت والجواہر جلد 1 صفحہ 346 دار احیاء التراث العربی بیروت طبع اول 1998 ء ) پھر حضرت ملا علی قاری ، موضوعات کبیر صفحہ 58-59 میں لکھتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ اس کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا فرمانا کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہو جاتا اور اسی طرح اگر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی ہو جاتے تو آنحضرت ﷺ کے متبعین میں سے ہوتے۔پس یہ قول خاتم النبیین کے مخالف نہیں ہے۔کیونکہ خاتم النبیین کا