خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 35
خطبات مسرور جلد ہفتم 35 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہوں یا اللہ تعالیٰ کی طرف جو باتیں وہ منسوب کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی پکڑ نہ کرے۔پس اللہ تعالیٰ کا مختلف جگہوں پر قرآن کریم میں اس حوالے سے فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بنیا دی اور اصولی بات ہے کہ جو بھی خدا تعالیٰ پر افتراء کرے گا، جھوٹ بولے گا وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آئے گا۔اور صرف یہی نہیں بلکہ حق اور سچائی کو جھٹلانے والا جو دوسرا گروہ ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی کی نافرمانی کرنے والا ہوگا تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی پکڑ میں آئے گا۔تو دو قسم کے گروہوں کا یہاں ذکر ہے۔ایک وہ جو اللہ تعالیٰ پر غلط افتراء کرے اللہ تعالیٰ اسے بھی پکڑتا ہے۔دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کو جھٹلائے اللہ تعالیٰ اسے بھی پکڑتا ہے اور دونوں ہی گروہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔پس انبیاء کا انکار کرنے والے جب یہ کہتے ہیں کہ اس نے اپنی طرف سے باتیں بنالیں اور خدا تعالیٰ نے اس کو قطعاً نبوت کا درجہ دے کر نہیں بھیجاتو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افتراء کرے گا ہم اسے پکڑیں گے۔جو نشانیاں اور ثبوت نبی کے لئے ظاہر ہوئیں انہیں دیکھ کر انہیں قبول کرنے کی کوشش کرو۔نبوت اپنے روشن نشانوں کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور ہر نیا دن یہ روشن نشان دکھا تا چلا جاتا ہے۔پس منکرین نبوت کو یہ ایسی دلیل دی گئی ہے کہ ان میں عقل ہو تو یقیناً ہوش کریں اور ہوش کرنی چاہئے۔یہ الزامات آنحضرت ﷺ سے پہلے انبیاء پر بھی لگے تھے اور پھر آنحضرت ﷺ کی ذات مقدس پر بھی لگے تھے اور یہی الزامات آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر بھی لگ رہے ہیں۔سورۃ زمر کی اس آیت سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی تعلیم کو جامع بتا کر یہ اعلان کیا تھا کہ اس جامع تعلیم کے بعد اب کوئی اعتراض کرنے کا جواز نہیں رہتا۔قرآن کریم اپنی ذات میں خود بھی بہت بڑا نشان ہے۔بلکہ اس کی ہر ہر آیت اور ہر ہر لفظ ایک اعجاز ہے اور اللہ تعالیٰ نے کفار کو اس کو قبول کرنے کی نصیحت فرمائی لیکن اس کے با وجود کفار نے انکار کیا۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سختی اور سزا سے کام لیا اور پھر ان لوگوں نے آنحضرت علی کو قبول کیا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میرے بھیجے ہوؤں کا انکار کرتے ہو تو اس دنیا میں یا اگلے جہان میں میری پکڑ کے نیچے آتے ہو۔پس عقل کا تقاضا یہی ہے کہ اس ہٹ دھرمی کو چھوڑ و۔اگلی آیت میں بتایا کہ تقویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف کا دل میں ہونے کا اظہار یہی ہے کہ جو سچائی کے پیغام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوا ہے اس کو قبول کرو۔کیونکہ یہی چیز تمہیں کامیابیاں بھی عطا کرے گی اور تقویٰ میں مزید بڑھائے گی۔اور یہ بھی ایک نبی کے سچا ہونے کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا میابیاں نصیب کرتا چلا جاتا ہے۔