خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 489
489 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 2009 پاؤں کے نشان بھی نظر آ رہے تھے اور کھوجی بھی وہاں تک لے گیا تھا۔لیکن مکڑی کے جالے کی وجہ سے انہوں نے اس طرف توجہ نہیں دی۔کھوجی نے یہی کہا کہ یا تو غار کے اندر ہیں یا آسمان پر چڑھ گئے ہیں اس وقت بھی ان کو سوچنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ ان بد فطر توں نے اپنے انجام کو پہنچنا تھا۔اسی لئے کسی نے اس بات پر غور نہیں کیا۔پھر سفر کے دوران بھی آپ کو پکڑنے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں اور آخر اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ ہم جانتے ہیں خیریت سے آپ کو مدینہ پہنچایا اور اس کے بعد وقتا فوقتا دشمنوں سے اللہ تعالیٰ جو سلوک فرماتا رہا اس کا میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے بدر سے لے کر فتح مکہ تک اور اس کی بعد کی جنگوں میں بھی آپ کو محفوظ رکھا اور دشمنوں کی پکڑ کی۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِاَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا۔وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ (آل عمران: 179) اور ہرگز وہ لوگ گمان نہ کریں جنہوں نے کفر کیا کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لئے بہتر ہے۔ہم تو انہیں محض اس لئے مہلت دے رہے ہیں تا کہ وہ گناہوں میں اور بھی بڑھ جائیں اور ان کے لئے رسوا کر دینے والا عذاب مقدر ہے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ اس لئے چھوٹ دیتا ہے کہ جو نیک فطرت ہیں وہ سمجھ جائیں اور حق کو پہچان کر اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے محفوظ ہو جائیں۔وہاں زیادتیوں اور ظلموں سے بڑھنے والوں کو یہ چھوٹ، یہ ڈھیل ظلموں میں بڑھاتی ہے اور وہ گنا ہوں میں مزید مبتلا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کا انکار کر کے اور زیادہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں اور پھر وہ لوگ سب سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہستی کی پکڑ میں آکر ذلیل و رسوا کرنے والے عذاب میں مبتلا کر دیئے جاتے ہیں۔پھر ایسے لوگوں کے لئے تو بہ کا کوئی راستہ نہیں کھلا ہوتا۔پھر وہ اللہ تعالیٰ کی ایسی چکی میں پیستے ہیں جو ان کے باریک سے باریک ذرے کر کے رکھ دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرعون کی مثال دے کر فرمایا ہے کہ جس طرح فرعون کو ڈھیل دی اور پھر پکڑا اسی طرح آنحضرت ﷺ کے دشمنوں کو بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں پکڑوں گا اور پھر پکڑ کر دکھایا۔اللہ تعالیٰ کے پکڑنے کے اپنے طریقے ہیں۔آنحضرت ﷺ کا دور جو ایک جلالی دور بھی تھا اور جنگوں کا بھی زمانہ تھا کیونکہ دشمنوں نے آپ پر جنگیں مسلط کی تھیں ، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسی طریقہ سے دشمنوں کو پکڑا کہ وہ اس وقت کی ضرورت تھی۔اللہ تعالیٰ نے دشمنان اسلام کو اُسی حربہ کے ذریعہ سے ذلیل و رسوا کیا جو وہ مسلمانوں پر استعمال کرتے تھے اور اپنی مضبوط پکڑ کا اظہار فرمایا۔آج بھی اللہ تعالیٰ کی صفت متین کام کر رہی ہے اور قائم ہے جیسے پہلے قائم تھی۔اُملِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِينَ کے نظارے خدا تعالیٰ آج بھی دکھاتا ہے اور آئندہ بھی دکھائے گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے