خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 479

479 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 19اکتوبر 2009 میں آنحضرت ﷺ کی زندگی میں اس وقت جو ظلم ہو رہے تھے وہ مظلومیت کی انتہا تھی۔مسلمانوں کی مکہ میں جو حالت زار تھی وہ اس سے ہر وقت ظاہر ہو رہی تھی۔مذہبی جنگیں ہجرت کے بعد اگر کسی سے کی جا رہی تھیں تو وہ مسلمانوں سے کی جا رہی تھیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق اپنے قوی اور طاقتور ہونے کا ثبوت دیا اور بے سروسامان تھوڑے اور نا تجربہ کار ہونے کے باوجود مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ اب جنگ کرو تو ان کی مدد بھی فرمائی اور فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لئے بھیجا۔پس اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی اجازت دفاع کے طور پر دی تھی۔امن قائم کرنے کے لئے دی تھی۔جہاد صرف وہ ہے جو مذہب پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کیا جائے۔باقی جو جنگیں ہوتی ہیں، چاہے وہ مسلمان مسلمان ملکوں کی ہوں یا مسلمانوں کی غیر مسلموں کے ساتھ ہوں وہ سیاسی اور قو می جنگیں کہلاتی ہیں اور آجکل جو جنگیں ہو رہی ہیں وہ سیاسی اور قو می جنگیں ہیں یہ جہاد نہیں ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے قوی ہونے کا اعلان کر کے یہ فرمایا کہ مذہب پر حملہ کرنے والوں کے خلاف میں مذہب کے ماننے والوں کی مدد کروں گا اور کیونکہ اب آخری اور مکمل مذہب اللہ تعالیٰ کے اعلان کے مطابق اسلام ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کا وعدہ فرمایا اور اِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ کہہ کر یعنی اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور کامل غلبہ والا ہے اس بات کا اعلان کر دیا کہ مسلمانوں کے خلاف اگر مذہبی جنگ ہوگی تو میں مددکروں گا۔پس آجکل کے جو حملے، فساد یا جنگیں ہو رہی ہیں جس میں مسلمان بجائے فتوحات کے رسوائی کا سامنا کر رہے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے اور یہ دلیل ہے کہ یہ نہ جہاد ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں مذہبی جنگ ہے اور اسی وجہ سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید بھی حاصل نہیں ہے۔پس مسلمانوں کو مذہب کے لئے تلوار اور توپ پکڑنے کی بجائے اپنے ایمان اور اعمال کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی اصلاح کے لئے رونا چلانا چاہئے۔پھر بغیر توپ اور بندوق کے دنیا کو اپنی طرف مائل کرنے والے بن سکیں گے۔دوسرے اس میں مسلمانوں کو یہ بھی حکم ہے کہ تمہیں قطعاً اجازت نہیں کہ کسی مذہب پر حملہ کر دیا طاقت استعمال کرو۔پس آج اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی تعلیم ہی قرآن کریم کی صحیح تعلیم ہے اور اسی طرف راہنمائی کرتی ہے۔اس پر عمل کریں اور پھر دیکھیں کہ قوی خدا کس طرح اپنی قدرت کا ہاتھ ظاہر فرماتا ہے اور کیا کیا نظارے دکھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کے ابتدائی ایام اور مسلمانوں پر ظلم اور جہاد کی اجازت اور اللہ تعالی کی مدد کا جو نقشہ ایک جگہ کھینچا ہے میں وہ بیان کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھوڑے تھے اس لئے ان کے مخالفوں نے بباعث اس تکبر کے جو فطرتاً ایسے فرقوں کے دل اور دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے، جو اپنے تئیں دولت میں، مال میں،