خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 471 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 471

471 خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم رحمتوں کے وارث بن جائیں وہی لوگ حقیقی ہدایت یافتہ ہیں۔کیونکہ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمُ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔اس لئے برکتیں اور مغفرت ترجمہ ہوگا۔یعنی صبر اور دعا کا مظاہرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور مغفرتوں کے ایسے نظارے دیکھیں گے جو اُن کے روحانی مدارج بلند کرنے والے ہوں گے۔صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمُ کہ اللہ تعالیٰ کوئی دعائیں نہیں دے رہا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کو مغفرت اور رحمتیں پہنچ رہی ہیں۔اور جب رحمتیں اور برکتیں پہنچ رہی ہوں تو ایسے لوگوں کے روحانی مدارج جو ہیں بلند ہوتے چلے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی ان کے شامل حال رہے گی۔ایسے لوگوں کے دنیاوی نقصانات بھی خدا تعالیٰ پورے فرما دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہوتے ہیں۔جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی بھی قسم کی قربانی پیش کرنے والے کسی احمدی کے ہاتھ میں مخالفین نے اپنی خواہش کے مطابق کبھی کشکول نہیں پکڑایا نہ پکڑا سکے۔بلکہ کشکول انہی کے ہاتھ میں ہے جنہوں نے احمدیوں کو تکلیفیں پہنچائی ہیں اور آئین اور قانون کی اغراض کی خاطر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی اس واضح تائید کے بعد بھی ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی اور یا سمجھنا نہیں چاہتے تو پھر کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ہم تو دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے۔پھر اسی آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت ، مغفرت اور برکت کو حاصل کرنے والا ہو، وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے اور اس وجہ سے، ہدایت پانے کی وجہ سے پھر ہدایت میں ترقی کرتے چلے جانے والا ہے اور ایسے لوگ کیونکہ مشکلات اور مصائب میں صبر اور دعا سے کام بھی لے رہے ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت بھی فرماتا چلا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لقاء کے نئے راستے انہیں دکھائے جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ محض اور محض اپنے فضل سے ہر احمدی کو مشکلات سے بچائے۔لیکن اگر الہی تقدیر کے مطابق کسی کو امتحان میں سے گزرنا ہی پڑ جائے تو اللہ تعالیٰ صبر اور دعا کے ساتھ اس سے گزرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے اور ہمیشہ ہماری راہنمائی بھی فرما تار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” جب میں آپ کی ان تکلیفوں کو دیکھتا ہوں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی ان کریمانہ قدرتوں کو جن کو میں نے بذات خود آزمایا ہے اور جو میرے پر وارد ہو چکی ہیں تو مجھے بالکل اضطراب نہیں ہوتا۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خداوند کریم قادر مطلق ہے اور بڑے بڑے مصائب شدائد سے مخلصی بخشتا ہے۔اور جس کی معرفت زیادہ کرنا چاہتا ہے ضرور اس پر مصائب نازل کرتا ہے تا اسے معلوم ہو جاوے کہ کیونکر وہ نومیدی سے امید پیدا کر سکتا ہے۔غرض فی الحقیقت وہ نہایت ہی قادر وکریم و رحیم ہے“۔مکتوبات جلد دوم صفحہ 27 مکتوب نمبر 15 بنام حضرت خلیفہ اول مطبوعه نظارت اشاعت ربوہ )