خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 463 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 463

463 خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ ثبات قدم دکھاؤ ، ثابت قدمی دکھاؤ۔تیسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے ان پر عمل کرو۔اور پھر اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نواہی سے بچاؤ۔جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے ان سے بچاؤ۔پس صبر میں دو ذرائع استعمال کئے گئے ہیں، ایک یہ کہ برداشت، ہمت اور حوصلہ رکھتے ہوئے ہر تکلیف اور مشکل اور امتحان پر ثابت قدم رہو۔تمہارے قدموں میں کبھی کوئی لغزش نہ آئے۔تمہارے ایمان میں لغزش نہ آئے۔اور دوسرے یہ کہ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی ہیں ان پر نظر رکھتے ہوئے اپنی زندگیاں گزار و اور خدا تعالیٰ کے آگے جھکے رہو۔اور پھر صبر کے ساتھ ہی صلوۃ کا لفظ استعمال کر کے دعاؤں کی طرف توجہ کرنے کی مزید تلقین فرمائی۔مختلف لغات میں صلوۃ کے جو معنے لئے گئے ہیں ان کا خلاصہ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ نماز کی طرف توجہ کرو، نماز کے علاوہ بھی دعاؤں پر زور دو۔دین پر مضبوطی سے قائم رہو۔استغفار کی طرف توجہ کرو۔ذکر الہی اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ کرو۔آنحضرت ﷺ پر درود بھیجو۔پس اس آیت میں ایک حقیقی مسلمان کی یہ خوبی بیان فرما دی کہ ہمیشہ ابتلا اور مشکلات میں کامل صبر اور حو صلے سے تکالیف کے دور کو برداشت کرو۔کسی حالت میں بھی تمہارے نیک اعمال بجالانے اور اعلیٰ خلق کے اظہار میں کمی نہ آئے۔اور نمازوں اور دعاؤں اور ذکر الہی اور درود شریف پڑھنے کی طرف اس تکلیف کے دور میں ، ابتلاء کے دور میں زیادہ توجہ دو اور اس سوچ اور عمل کے ساتھ جب تم خدا تعالیٰ کی مدد مانگو گے اور اس پر استقلال سے قائم رہو گے، مستقل مزاجی دکھاؤ گے تو پھر ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ ابتلاؤں کا دور جو عارضی ہے تمہیں کا میابیوں اور فتوحات سے ہمکنار کرے گا۔ایک مومن کا آخری سہارا تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔یا تو کوئی احمدی، نعوذ باللہ ، یہ کہے کہ میں خدا کو نہیں مانتا اور یہ ہو نہیں سکتا۔کیونکہ جہاں خدا تعالیٰ پر ایمان کمزور ہوا وہاں وہ احمدی ، احمدی ہی نہیں رہتا۔خود احمدیت ختم ہو جاتی ہے، اسلام اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔پس جب ایک احمدی مسلمان کا خدا تعالیٰ پر ایمان بالغیب ہے تو اس بات پر بھی کامل یقین ہونا چاہئے کہ میرا ہر حال میں سہارا خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔پس ابتلاؤں اور امتحانوں میں جو دشمن کی طرف سے مختلف طریقوں سے ہم پر آتے ہیں، عظمندی کا تقاضا بھی ہے اور ایمان کا بھی یہی تقاضا ہے کہ پھر اس ہستی سے تعلق میں پہلے سے زیادہ بڑھیں جو جائے پناہ بھی ہے اور ان ابتلاؤں اور امتحانوں سے نجات دلانے والی بھی ہے۔اور جب ابتلاؤں میں صبر اور دعاؤں میں ایک خاص رنگ رکھ کر ہم خدا تعالیٰ کے آگے جھکیں گے تو وہ جو سب پیار کرنے والوں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، جو اس ماں سے بھی زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے جو اپنے بچے کی ہر تکلیف کو اس کی محبت سے مغلوب ہو کر دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے آخر میں یہ کہہ کر کہ اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ اس طرف توجہ دلائی ہے کہ میں تو یقینا تمہاری مددکروں گا جو صبر کرنے والے