خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 455
455 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پھر آپ فرماتے ہیں کہ: "روحانیت اور پاکیزگی کے بغیر کوئی مذہب چل نہیں سکتا۔قرآن شریف نے بتلایا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پیشتر دنیا کی کیا حالت تھی يَأكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الانْعَامُ (سورة محمد :13: پھر جب انہی لوگوں نے اسلام قبول کیا تو فرماتا ہے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا۔جب تک آسمان سے تریاق نہ ملے تو دل درست نہیں رہتا۔انسان آگے قدم رکھتا ہے مگر وہ پیچھے پڑتا ہے۔قدسی صفات اور فطرت والا انسان ہوتو وہ مذہب چل سکتا ہے۔اس کے بغیر کوئی مذہب ترقی نہیں کر سکتا اور کرتا بھی ہے تو پھر قائم نہیں رہ سکتا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 431 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ہم جو یہ خواہش رکھتے ہیں کہ جماعت کی جلد ترقی ہو۔افراد جماعت کو جن مشکلات اور مصائب سے گزرنا پڑ رہا ہے وہ جلدی دُور ہوں تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا آسمانی تریاق کی ضرورت ہے۔اور آسمانی تریاق اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق حاضر ہو کر مانگنے سے ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔پھر چوتھی خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ عباد الرحمن خدا تعالیٰ سے جہنم سے دوری کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔اور جہنم سے دونوں جہنم مراد ہیں ، اخروی جہنم بھی جو گناہوں کی پاداش میں ملے گی اور اس دنیا کی جہنم بھی جو بعض برے کاموں کے یا غلطیوں کے بدنتائج کی صورت میں ملتی ہے۔پس عباد الرحمن کا کام ہے کہ ہر وقت تو بہ اور استغفار کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی ذلتوں سے بچائے۔ہر قسم کی دنیاوی مشکلات کی جہنم سے بچائے۔دنیا کی چمک اور تو جہات اور ترجیحات کا غلام نہ بنائے کہ یہ اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے دور لے جا کر پھر اخروی جہنم میں پڑنے کا باعث بناتی ہیں۔پھر یہ کہ اولاد کی طرف سے بھی ہماری فکریں دُور ہوں اور ان کی وجہ سے بھی ہم اپنے اندر دل میں بے چینی کی آگ میں نہ جلتے رہیں۔پھر عبادالرحمن کی پانچویں خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ لَمْ يُسْرِفُوا۔اسراف نہیں کرتے ، فضول خرچی نہیں کرتے۔نہ ہی ذاتی اموال میں دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی جماعتی اموال کو بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتے ہیں۔ذاتی فضول خرچی کی ایک مثال ہمارے ہاں بہت عام ہوتی جا رہی ہے اور وہ ہے شادی بیاہوں پر فضول خرچی۔ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی یہاں بھی اور پاکستان میں بھی کئی قسم کے کھانے پکوائے جاتے ہیں اور شادی کی دعوت ہوتی ہے۔پھر ولیمہ کی دعوت ہوتی ہے۔دعوت کرنا کوئی حرج نہیں۔سادہ بھی کی جاسکتی ہے۔پھر شادی سے پہلے مہندی کی دعوت کا بھی رواج پڑ گیا ہے جو لڑکی کے گھر والے شادی کی رونق لگانے کے بہانے کرتے ہیں۔اس پر بھی بے تحاشا خرچ کیا جاتا ہے اور اس کے لئے بھی باقاعدہ کا رڈ چھپوائے جاتے ہیں تقسیم کئے جاتے ہیں اور دعوت