خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 31
31 خطبه جمعه فرمودہ 16 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہمیں آئندہ غلطیوں سے بچنے اور اپنی رضا کے حصول کی توفیق بھی عطا فرما، ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرما جو تیری رضا حاصل کرنے والے ہوں تا کہ ہم ہمیشہ ان لوگوں میں شمار ہوں جن پر تیرے پیار کی نظر پڑتی رہتی ہے اور ان غلطیوں کی وجہ سے ہماری ترقی کی رفتار کبھی کم نہ ہواور نہ کبھی ہماری غلطیوں کی وجہ سے ہماری ترقی رکے۔اَنتَ مَولنا تو ہمارا آقا اور مولا ہے اور تیرے علاوہ کوئی نہیں جو ہمارے سے عفو کا سلوک کرے۔مغفرت کا سلوک کرے۔رحم کا سلوک کرے۔یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو اپنے بندوں سے ایک انتہا تک عفو اور مغفرت اور رحم کو لے جاتی ہے۔ہماری ذاتی کمزوریوں سے بھی جماعت پر اثر نہ آئے کیونکہ بعض دفعہ ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے بھی لوگ جماعت پر انگلی اٹھا ر ہے ہوتے ہیں اور جماعتی کمزوریاں بھی بعض دفعہ ہو جاتی ہیں۔عہدیداروں کی طرف سے بھی ہو جاتی ہیں تو لوگوں کو جماعت پر انگلی اٹھانے کا کبھی موقع نہ دیں اور جب ہمارا یہ دعوی ہے کہ ہم الہی جماعت ہیں اور ہماری کمزوریوں کی وجہ سے دنیا کو انگلی اٹھانے کا موقع ملے تو پھر دنیا یہ کہے گی کہ ان لوگوں کے یہ عمل ہیں اور ان کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان کو پکڑ رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحم نہ کیا۔ہم سے مغفرت کا سلوک نہ کیا اور سزا دی تو دنیا تو پھر یقینا یہی کہے گی کہ ان کے عمل کی وجہ سے خدا تعالیٰ ان کو پکڑ رہا ہے اور اس دنیا میں ہمیں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اگر یہ ہوگا تو پھر اس سے دنیا میں تیرا پیغام پہنچانے میں روک پیدا ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو جماعت ہے اس کے سپرد یہ تیرا یہ پیغام دنیا میں پہنچانے کا جو بھی کام کیا گیا ہے اس میں پھر روک پیدا ہو گی۔پس تجھ سے بھیک مانگتے ہیں کہ اے ہمارے مولیٰ ! ہم سے سختی کا سلوک نہ کر۔ہماری غلطیوں پر ہماری اصلاح کرتا رہ اور ہمیں سیدھے راستے پر چلاتا رہ اور فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِین کافروں کے خلاف بھی ہمیشہ ہماری مدد کرتارہ اور ان پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔ہم تو کمزور ہیں یہ غلبہ تیرے فضل اور ہم پر تیری خاص نظر سے ہونا ہے اس لئے ہمیں انفرادی طور پر بھی اور من حیث الجماعت بھی اُن لوگوں میں شامل رکھ جو تیرے خاص انعام اور پیار کے ہمیشہ مورد بنے رہتے ہیں۔اپنے فضل سے ایک امتیاز ہم میں اور ہمارے غیر میں پیدا کر دے تا کہ ہمارے مادی معاملات بھی اور ہمارے روحانی معاملات بھی تیرا تقویٰ اور تیرا خوف دل میں لئے ہوئے انجام پانے والے ہوں تا کہ جس مقصد کے لئے ہم نے حضرت مسیح موعود کو قبول کیا ہے وہ مقصد حاصل کرنے والے بن سکیں۔جب یہ سوچ لے کر ہم آخری دو آیات کو پڑھیں گے تو ہمارا قبلہ بھی پھر صحیح رخ پر رہے گا اور ہم ان آیات کی برکات سے فیض پانے والے ہوں گے۔ورنہ صرف الفاظ کو پڑھ لینا تو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔نہ ہی یہ کافی ہو سکتا ہے۔بے شک قرآنی الفاظ میں برکت ہے لیکن یہ برکت نیک دل کو ملتی ہے۔اگر دل میں نیکی نہیں تو جس طرح نمازیں بعض نمازیوں کے منہ پر ماری جاتی ہیں اسی طرح اس قرآن پڑھنے والے کو جھوٹا کر کے اس کے اوپر الٹا دیا جائے گا۔یہ آیات اس لئے کافی ہیں کہ انسان کا ایک مکمل جائزہ اپنے سامنے آجاتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا