خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 448
خطبات مسرور جلد ہفتم 448 خطبه جمعه فرمودہ 18 ستمبر 2009 اختصار سے کام لو۔پھر آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے روز امام کے خطبہ دینے کے دوران آئے تو وہ دورکعت پڑھے اور ان کو جلد جلد مکمل کرلے۔مسلم کتاب الجمعۃ۔باب التحیۃ والا مام مخطب حدیث نمبر 1908) علقمہ روایت کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعودؓ کے ہمراہ جمعہ کے لئے گیا۔انہوں نے دیکھا کہ ان سے پہلے تین آدمی مسجد میں پہنچ چکے تھے۔انہوں نے کہا چوتھا میں ہوں۔پھر کہا کہ چوتھا ہونے میں کوئی دوری نہیں۔پھر کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور جمعہ میں آنے کے حساب سے بیٹھے ہوں گے۔یعنی پہلا دوسرا تیسرا اور انہوں نے کہا پھر چوتھا اور چوتھا بھی زیادہ دور نہیں۔( سنن ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوۃ والسنۃ فیھا۔باب ما جاء فی التجیر الی الجمعۃ حدیث نمبر 1094) تو جمعوں کی اتنی اہمیت ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا : نماز جمعہ پڑھنے آیا کرو اور امام کے قریب ہو کر بیٹھا کرو اور ایک شخص جمعہ سے پیچھے رہتے رہتے جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔حالانکہ وہ جنت کا اہل ہوتا ہے۔(سنن ابوداؤد کتاب الصلاۃ باب تفریح ابواب الجمعۃ باب الدنو من الامام حدیث نمبر 1108) نیکیوں کی توفیق والی حدیث میں نے پہلے پڑھی تھی۔نیکیاں تو انسان کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ نیکیاں جمعہ نہ پڑھنے کی وجہ سے دل کو داغ لگنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی جاتی ہیں اور پھر وہی انسان جو جنت کا اہل ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ جنت سے محروم رہ جاتا ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبید بن ثبات روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جمعہ کے روز فرمایا کہ اے مسلمانوں کے گروہ ایقیناً یہ دن خدا نے تمہارے لئے عید کا دن بنایا ہے پس تم غسل کیا کرو اور جس کسی کے پاس طبیب ہو یعنی خوشبو ہو وہ ضرور اسے لگالیا کرے اور مسواک کیا کرو۔( سفن ابن ماجہ کتاب اقامتہ الصلوۃ باب ما جاء فى الزينة يوم الجمعة حدیث نمبر 1098) پس یہ اہمیت ہے جمعوں کی جسے ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دن کو ایک اور زاویے سے پیش فرمایا ہے اور پھر جمعہ کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔آپ آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم ( المائدہ: 4 ) کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: غرض الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمُ کی آیت دو پہلو رکھتی ہے۔ایک یہ کہ تمہاری تطہیر کر چکا۔تمہیں پاک کر دیا ایسادین آگیا کہ جو پاک کرنے والا ہے۔اور دوم ( یہ کہ ) کتاب مکمل کر چکا۔کہتے ہیں جب یہ آیت اتری وہ جمعہ کا دن تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی یہودی نے کہا کہ اس آیت کے نزول کے دن عید کر لیتے۔