خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 447
447 خطبه جمعه فرمودہ 18 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم حضرت سلمان فارسی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم اللہ نے فرمایا کہ جو شخص بھی جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق پاکیزگی اختیار کرے اور تیل لگائے اور گھر سے خوشبو لگا کر چلے اور دو آدمیوں کو الگ الگ نہ کرے ( یعنی اپنے بیٹھنے کے لئے زبردستی پرے نہ ہٹائے ) اور پھر جو نماز اس پر واجب ہے وہ ادا کرے۔پھر جب امام خطبہ دینا شروع کرے تو وہ خاموشی سے سنے تو اس کے اس جمعہ اور اگلے جمعہ کے درمیان ہونے والے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔( بخاری کتاب الجمعة باب الدهن للجمعۃ حدیث نمبر 883) پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ سب سے پہلے آنے والے کو پہلا لکھتے ہیں اور پہلے آنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اونٹ کی قربانی کرے۔پھر بعد میں آنے والا اس کی طرح ہے جو گائے کی قربانی کرے۔پھر مینڈھا ( بھیٹر ) ، پھر مرغی اور پھر انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے۔پھر فرمایا کہ پھر جب امام منبر پر آ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں۔یعنی فرشتے اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں اور ذکر کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔( بخاری کتاب الجمعۃ باب الاستماع الى الخطبة يوم الجمعۃ حدیث نمبر (92) اس خطبہ کو سننا شروع کر دیتے ہیں جو امام دے رہا ہوتا ہے۔اس میں ایک تو ثواب اور اس کے بعد پھر خطبوں کو توجہ سے سننے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جس مسجد میں مجلس میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے بیٹھے ہوں اور وہ باتیں سن رہے ہوں اس سے زیادہ با برکت مجلس اور کون سی ہوسکتی ہے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز امام کے خطبہ کے دوران بولے اس کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو اور جو اس سے یہ کہے کہ خاموش رہے تو اس کا بھی جمعہ نہیں۔( مسند احمد بن حنبل 1/230 - جلد 1 مسند عبداللہ بن عباس حدیث نمبر 2033 عالم الكتب بیروت 1998 ء ) یعنی بولنے والے کو بول کر خاموش کرانا بھی منع ہے۔اگر بچے شور کر رہے ہیں اور ان میں کوئی چھوٹا بچہ ہو تو وہاں سے اس کو اٹھا کر لے جانا چاہئے اور اگر کوئی ہوش مند بچہ بول رہا ہے، شرارت کر رہا ہے تو اس کو اشارے سے منع کرنا چاہئے۔حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سُلَيْك غَطفانی جمعہ کے روز اس وقت آکر بیٹھ گیا جب رسول ال لی کہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے اسے فرمایا: اے سُليك! کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کرو اور اس میں