خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 443
443 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرمودہ 18 ستمبر 2009 اپنی مشہور تاریخ میں نقل کئے ہیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ دونوں دنوں میں اس بات کی قانوناً ممانعت تھی کہ کوئی یہودی کسی مقدمے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کے لئے بلایا جائے۔جمعہ کا نام ہی عبرانی میں عُرَيْبِ هَشَابَاتُ رکھا گیا تھا اور سبت کی تیاری چھٹے دن یعنی جمعہ کے روز آٹھویں گھڑی میں تقریباً اڑھائی بجے شروع ہوتی جبکہ قربانی کی جاتی اور نویں گھڑی تقریباً ساڑھے تین بجے ختم ہوتی جبکہ سوختنی قربانی چڑھائی جاتی تھی اور اس کے بعد یہودی کام کاج سے فارغ ہو کر نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر شاہ سبت یعنی ہفتہ کا استقبال کرتے۔تو اس تسمیہ سے ظاہر ہے کہ جمعہ بھی ان کے نزدیک ایک گوناں سبت کا حکم رکھتا تھا۔اس لئے اسلامی مؤرخین کی یہ روایتیں اپنے اندر صداقت رکھتی ہیں کہ جمعہ کے دن کا نام عروبہ جو قدیم عربوں میں مشہور تھا وہ دراصل اہل کتاب سے لیا گیا تھا“۔بہر حال آگے پھر لکھتے ہیں۔غرض عروبہ کے نام کا ماخذ یہودیوں کے درمیان اب تک پایا جاتا ہے اور سبت کی عبادت بھی جمعہ کے دن ہی شروع ہوتی ہے اور یہ دونوں شہادتیں اصل حقیقت کی غماز ہیں۔پھر آخر میں نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ امر بھی یقینی ہے کہ یہود نے احکام سبت کے بارہ میں شدید سے شدید خلاف ورزیاں کیں بلکہ ان کے بعض انبیاء نے تو ان کی ذلت و ادبار کا سارا موجب سبت کی بے حرمتی قرار دیا ہے اور حضرت موسی نے بھی یہ پیشگوئی کی تھی کہ سبت کی بے حرمتی بنی اسرائیل کی تباہی کا موجب ہوگی“۔( یہ بائیل میں لکھا ہوا ہے۔) ( صحیح بخاری جلد دوم شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب صفحہ 275-274 مطبوعہ ربوہ ) یہ سب شواہد و قرائن آنحضرت ﷺ کے مذکورہ بالا ارشاد کی تصدیق کرتے ہیں۔یہ جو حدیث ہے نا کہ ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف راہنمائی کی اور آج تک پندرہ سو سال گزرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمان جیسا بھی ہو جمعہ کا کہیں نہ کہیں اہتمام ضرور کرتا ہے۔چاہے تھوڑے ہوں ، سارا شہر نہ بھی جمع ہو لیکن جمعہ پر ضرور آتے ہیں اور جب تک جمع ہوتے رہیں گے برکات ملتی رہیں گی اور اس زمانے میں جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود کے زمانے کے ساتھ اس کی ایک خاص اہمیت ہے اس لئے احمدیوں کو خاص طور پر اس کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔پس جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف ہماری درست راہنمائی فرمائی ہے۔ہمارا یہ پہلا فرض بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بجا آوری کے لئے خاص اہتمام کرتے رہیں۔اس حکم کی خلاف ورزی کر کے اللہ تعالیٰ کے کسی انذار کا مورد نہ بن جائیں۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی پرانی تاریخیں بتائی ہیں۔یہودیوں کی بتائی ہیں۔بنی اسرائیل کی بتائیں۔اسی لئے کہ ہم بھی ہوشیار رہیں۔یہود نے جمعہ کے دن کو اگر ان کی خاص عبادت کی ابتداء اس دن سے ہوتی تھی جیسا کہ شاہ صاحب نے ثابت کیا ہے اور تاریخ سے ثابت ہوتا ہے تب بھی اس دن کو چھوڑنا تھا۔انہوں نے اس دن کو اس لئے چھوڑنا تھا کیونکہ یہ الہی تقدیر تھی۔اس بابرکت دن نے آنحضرت ما اور آپ کی امت کے لئے مخصوص رہنا تھا۔