خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 436
436 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 ہے۔وہ یہ ہے کہ یہی قرآن یعنی پڑھنے کے لائق کتاب ہے اور ایک زمانہ میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے لائق کتاب ہوگی جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔اس وقت اسلام کی عزت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہوگی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔فرقان کے بھی یہی معنی ہیں۔یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا رہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔بڑے تأسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتناء اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے اس نور کے آگے کوئی ظلمت نہ ٹھہر سکے گی۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 386 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یہاں ایک وضاحت بھی کر دوں کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حدیث کو ترک کرو اور قرآن کو پڑھو۔لیکن دوسری جگہ فرمایا ہے کہ احادیث اگر قرآن کریم کے تابع ہیں تو ان کو لو اور دوسریوں کو رد کر وصرف احادیث کے اوپر نہ چلو۔(ماخوذ از ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 454 ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے اور ایسی کامیابی ایک خیالی امر ہے جس کی تلاش میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں۔صحابہ کے نمونوں کو اپنے سامنے رکھو۔دیکھو انہوں نے پیغمبر خدا ﷺ کی پیروی کی اور دین کو دنیا پر مقدم کیا تو وہ سب وعدے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے تھے پورے ہو گئے۔ابتدا میں مخالف ہنسی کرتے تھے کہ باہر آزادی سے نکل نہیں سکتے اور بادشاہی کے دعوے کرتے ہیں۔لیکن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں گم ہو کر وہ پایا جوصدیوں سے ان کے حصے میں نہ آیا تھا“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 409 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس آج بھی ہماری فتح قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور احمدیت کے غلبہ کے نظارے ہمارے نزدیک تر کرے۔اس وقت ایک افسوسناک اطلاع بھی ہے۔ہمارے مبلغ سلسلہ کینیڈا، مکرم محمد طارق اسلام صاحب کی دو دن پہلے وفات ہوگئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کی عمر 54 سال تھی۔ان کو جگر یا Spleen کا کینسر ہوا اس کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی ہے۔مختصر علالت کے بعد وفات پاگئے۔آپ نے 1978ء میں شاہد کا امتحان پاس کیا اس کے بعد پاکستان میں مختلف جگہوں پر رہے۔پھر آپ نے مرکز ربوہ میں وکالت علیاء میں بھی کام کیا۔ان کو اٹلی بھجوایا