خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 429 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 429

429 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ لَوْ اَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ الله (الحشر (22) اس کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ایک تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اتر تا تو پہاڑ خوف خدا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے تو بڑے ہی بے وقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔اور دوسرے اس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔اول تکبر کو توڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اونچا کیا ہوا ہوتا ہے ، گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔اسی طرح انسان کو چاہئے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دور کرے۔عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے۔اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر مُتَصَدِّعًا ہو جاتا ہے۔اینٹ سے اینٹ جدا ہو جاتی ہے۔ایسا ہی اس کے پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور الہی نارضامندی تھے وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جائیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 511-510 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ تکبر توڑنے کی ضرورت ہے اور اپنے دلوں کی سطح ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔میں پھر دوبارہ ان نام نہاد علماء کو کہوں گا۔بات پھر وہیں پلٹ جاتی ہے کہ جب تک مسیح موعود کے مقابلہ میں اپنے تکبر سے پُر سر جو ہیں وہ نیچے نہیں کرو گے تو قرآن کی اور اسلام کی اسی قسم کی تعریفیں ہی کرتے رہو گے جو مضحکہ خیز ہیں۔اب اللہ اور رسول ہے۔محبت کا دم بھرنا ہے تو امام وقت سے تعلق جوڑنا بھی ضروری ہے۔پھر دیکھو مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں تم کس طرح عزت کی نگاہ سے دیکھے جاؤ گے۔تب اس پاک کلام کے اسرار و رموز تمہیں سمجھ آئیں گے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ پر اتارا۔اس کا فہم تمہیں حاصل ہوگا۔کیونکہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ کے برگزیدہ کی ضرورت ہوتی ہے۔جیسا کہ خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهُ لَقُرَانٌ كَرِيمٌ فِي كِتَابٍ مَّكْنُونِ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ: 80-78) کہ یقیناً ایک عزت والا قرآن ہے ، ایک چھپی ہوئی کتاب ہے، محفوظ کتاب ہے کوئی اسے چھو نہیں سکتا سوائے پاک کئے ہوئے لوگوں کے۔ان آیات میں جہاں غیر مسلموں کے لئے قرآن کریم کی عزت و عظمت کا اظہار کیا گیا ہے۔ان کو بتایا گیا ہے کہ اس کی عظمت ہے۔ایک ایسی کتاب ہے جو بیش بہا خزانہ ہے۔جس کی تعلیم محفوظ ہے یعنی اس کے نزول کے وقت سے یہ محفوظ چلی آرہی ہے اور تا قیامت محفوظ رہے گی۔لیکن فائدہ وہی اٹھائیں گے جو پاک دل ہو کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔وہاں مسلمانوں کے لئے بھی اس میں نصیحت ہے کہ صرف مسلمان ہو کر اس سے فیض نہیں پایا جا