خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 430
430 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم سکتا۔جب تک پاک دل ہو کر اس پر عمل نہیں کرتے اور اس کا مکمل فہم حاصل نہیں کرتے اور اس دُر مکنون کو حاصل کرنے کے لئے ان مُطَهَّرین کی تلاش نہیں کرتے جن کو خدا تعالیٰ نے اس کے فہم سے نوازا ہے یا نوازتا ہے اور اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں اور خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق یہ مقام آنے والے مسیح و مہدی کو ہی ملنا تھا اور ملا ہے اور خدا تعالیٰ سے براہ راست علم پا کر آپ نے اس عظیم کتاب کے اسرار ورموز ہم پر کھولے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔" قرآن کے حقائق و دقائق انہیں پر کھلتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔پس ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے سمجھنے کے لئے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہو۔اگر قرآن کے سیکھنے کے لئے معلم کی حاجت نہ ہوتی تو ابتدائے زمانہ میں بھی نہ ہوتی۔فرمایا کہ یہ کہنا کہ ابتدا میں تو حل مشکلات قرآن کے لئے ایک معلم کی ضرورت تھی لیکن جب حل ہو گئیں تو اب کیا ضرورت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حل شدہ بھی ایک مدت کے بعد پھر قابل حل ہو جاتی ہیں۔ماسوا اس کے اُمت کو ہر ایک زمانہ میں نئی مشکلات بھی تو پیش آتی ہیں۔اب دیکھیں عملاً امت میں اس کا اظہار بھی ہو گیا۔کئی سو آیات ایک وقت میں قرآن کریم کی منسوخ سمجھی جاتی تھیں۔پھر اللہ تعالیٰ کے پاک بندے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، ان کوحل کرتے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان تمام کو حل کر دیا۔پس معلم کی ضرورت تو خود اسلام کی تاریخ سے بھی ثابت ہے۔یہ جو اتنے فرقے بنے ہوئے ہیں یہ بھی اس لئے ہیں کہ جس جس کو اپنے ذوق کے مطابق سمجھ آئی اور اس نے اسی کو آخری فیصلہ سمجھ کے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا اور لاگو کر لیا اس پر قائم ہو گیا۔بڑے بڑے مسائل تو ایک طرف رہے اب وضو کے بارہ میں ہی مسلمانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ، حالانکہ قرآن کریم میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں کہ قرآن جامع جمیع علوم تو ہے، یعنی تمام علوم اس میں پائے جاتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اس کے تمام علوم ظاہر ہو جائیں بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کرنے والے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں۔(شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 348 پھر آپ خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں : " کہتے ہیں کہ ہم کو سیح اور مہدی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ قرآن ہمارے لئے کافی ہے اور ہم سیدھے راستے پر ہیں۔حالانکہ جانتے ہیں کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ سوائے پارکوں کے اور کسی کی فہم اس تک نہیں پہنچتی۔اس وجہ سے ایک ایسے مفسر کی حاجت پڑی کہ خدا کے ہاتھ نے اسے پاک کیا ہو اور بینا بنایا ہو۔( ترجمه از خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد نمبر 16 صفحہ 184-183 مطبوعہ ربوہ )