خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 425 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 425

425 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم بلکہ پیشگوئی بھی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا نہیں کرو گے تو تمہارے دل بھی اسی طرح سخت ہوں گے۔آج کل کے حالات دیکھیں تو مسلمانوں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔غور کریں کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ باوجود اس کے کہ مغربی دنیا میں جب یہاں کے سیاستدانوں کو مسلمان اپنے فنکشنز میں بلاتے ہیں یا خود اپنے فنکشنز کرتے ہیں تو تقریروں میں فنکشنز میں یہ لوگ مسلمانوں کی تعریف بھی کر رہے ہوتے ہیں لیکن جب مجموعی طور پر کسی فیصلے کا وقت آتا ہے تو فیصلے وہی کئے جاتے ہیں جو ان کی اپنی مرضی کے ہوں نہ کہ مسلمانوں کے مفاد کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔پس مسلمانوں کی یہ جو دوسرے درجے بلکہ تیسرے درجے کی حیثیت ہے اور ان کے اپنے ملکوں میں بھی حکومتیں چلانے کے لئے دوسروں کی طرف نظر ہے۔پھر آسمانی اور زمینی آفات ہیں۔یہ سب کیا ہے؟ سورۃ حشر کی آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس سے پہلی آیات میں مومن ہی مخاطب ہیں جنہیں تقویٰ اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کل کے لئے کچھ آگے بھیجنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔آخرت کی اور عاقبت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اللہ کی یاد کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ورنہ فرمایا اگر اس طرف توجہ نہیں کرو گے تو نتیجتا تم خود اپنی پہچان کھو بیٹھو گے۔فسق و فجور میں پڑ کر ذلت کا سامنا کرو گے۔پس ہوش کرو اور شیطان کے پنجے سے نکلو اور اپنے دلوں کی سختیوں کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے بھر کر نرمی میں بدلو۔لیکن شیطان نے ایسا قابو کیا ہے کہ حقیقت کو سمجھنا نہیں چاہتے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا نقشہ ایک جگہ اس طرح کھینچا ہے کہ وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الانعام : 44 ) یعنی ان کے دل تو اور بھی سخت ہو گئے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں شیطان نے انہیں اور بھی خوبصورت کر کے دکھایا ہے۔ہر آفت سے، ہر مشکل سے سبق لینے کی بجائے ظلموں میں اور بڑھ جاتے ہیں۔فسق و فجور میں اور بڑھ جاتے ہیں۔پاکستان میں بھی آج کل شور ہورہا ہے۔ہر جگہ مار دھاڑ ہوتی ہے۔کہیں بجلی کے خلاف کہیں دوسرے ظلموں کے خلاف کہیں مہنگائی کے خلاف جلوس نکل رہے ہیں، کہیں دوسری آفات ہیں۔لیڈر جو ہیں ان کو بھی کوئی فکر نہیں۔اخباروں میں کالم لکھے جا رہے ہیں کہ ہم لوگ تباہی کے کنارے کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور یہ سب کچھ کیا ہے؟ اس کی ایک بہت بڑی وجہ میں بتا تا ہوں اور یہ وجہ ایک عرصہ سے بتارہا ہوں کہ زمانہ کے امام کو ماننا تو درکنار، وہ تو ایک طرف رہا ایسے قانون لاگو کئے گئے ہیں کہ ماننے والوں پر قانون کی آڑ میں ظلم کئے جاتے ہیں۔وہ ظلم تو پہلے بند کرو۔امام الزمان کے خلاف ہر سرکاری کاغذ پر گالیوں کی جو بھر مار کی جاتی ہے اس کو تو بند کرو۔ورنہ خدا تعالیٰ کی تقدیر اپنے پیاروں کے لئے اپنا کام کرتی ہے۔کوئی غیر مسلم اگر اللہ اور حمد کا نام یہاں پاکستان میں لے لے، گلوں میں لاکٹ پہنے ہوں تو بڑے خوش ہوتے ہیں۔لیکن احمدی اگر اللہ اور محمد ﷺ کا نام اپنی مسجدوں اور گھروں پر لکھیں تو