خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 424 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 424

خطبات مسرور جلد ہفتم 37 424 خطبه جمعه فرموده 11 ستمبر 2009 فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2009ء بمطابق 11 تبوک 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ۔وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الحشر: 22) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اگر ہم نے اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تو ضرور دیکھتا کہ وہ اللہ کے خوف سے عجز اختیار کرتے ہوئے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا اور یہ تمثیلات ہیں جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تا کہ وہ تفکر کریں۔بعض لوگوں کے دل اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ کلام الہی کا ان پر اثر ہی نہیں ہوتا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے فرمایا کہ اگر ہم یہ قرآن پہاڑ پر بھی اتارتے تو وہ بھی خوف سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔پس اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض انسانوں کے دل پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔اپنے مقصد پیدائش کو بھول جاتے ہیں۔اپنے پیدا کرنے والے کو بھول جاتے ہیں۔اپنی عاقبت کو بھول جاتے ہیں۔سورۃ بقرہ میں انسانی دلوں کی سختی کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً۔وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَ نْهرُ۔وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ، وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ (البقرة : 75) یعنی اس کے بعد پھر تمہارے دل سخت ہو گئے۔گویا وہ پتھروں کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہیں۔پتھروں میں سے ایسے ہیں جن میں سے دریا بہتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جب پھٹ جائیں تو ان میں پانی بہنے لگتا ہے، چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی تقدیروں کا ، اللہ تعالیٰ کے کلام کا، دنیا میں اللہ تعالیٰ کی جو مختلف تقدیریں چل رہی ہیں ان کا جمادات پر بھی اثر ہوتا ہے۔لیکن انسان کا دل ایسا سخت ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو دیکھ کر بھی اپنے اندر تبدیلی لانا نہیں چاہتا۔سورۃ بقرہ کی اس آیت میں یہودیوں کے حوالے سے بات ہو رہی ہے لیکن یہ حوالہ صرف واقعہ نہیں