خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 419
419 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 قرآن کریم تم غور کرنے کے لئے پڑھ سکتے ہو تمہیں پڑھنا چاہئے۔ایک مومن کا یہی کام ہے۔تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآن سے صرف یہ مطلب ہی نہیں لینا چاہئے کہ جو ہمیں یاد ہے کافی ہے وہی پڑھ لیا اور مزید یاد کرنے کی کوشش نہیں کرنی۔یا جس تعلیم کا علم ہے وہی کافی ہے اور مزید ہم نے نہیں سیکھنی۔بلکہ جہاں تک ممکن ہو اس میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتَ (المائدہ: 49 ) کہ نیکیوں میں آگے بڑھو۔اور جب تک یہ علم ہی نہ ہو کہ نیکیاں کیا ہیں جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں، کون کون سے اعمال ہیں جو قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں تو کس طرح آگے بڑھا جا سکتا ہے۔پس قرآن کریم کا پڑھنا اور سیکھنا اور اس پر غور کرنا بھی بڑا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا تھا کہ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ ( تحفه بغداد روحانی خزائن جلد 7 صفحہ (29) کہ تمام بھلائیاں اور نیکیاں جو ہیں وہ قرآن کریم میں موجود ہیں۔پس یہاں میسر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مزید سیکھنا ہی نہیں ہے۔جو یاد ہو گیا، یا د ہو گیا بلکہ اپنی صلاحیتوں کو اور علم کو بڑھاتے رہنا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ اس قرآن کریم سے فیض پایا جا سکے۔باقی جو حالات ہیں ان کے مطابق یہ ذکر ہے کہ تم بیمار ہو گے، مریض ہو گے، سفر پہ ہو گے تو اس لحاظ سے نمازیں چھوٹی بڑی بھی ہو جاتی ہیں، قرآن ( پڑھنے ) میں کمی زیادتی بھی ہو جاتی ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ قطعا نہیں ہے کہ قرآن کریم کو جو سیکھ لیا وہ سیکھ لیا اور مزید نہیں سیکھنا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (المزمل: 5 ) یا اس پر کچھ زیادہ کر دے اور قرآن کو خوب نکھار کر پڑھ۔یعنی تلاوت ایسی ہو کہ ایک ایک لفظ واضح ہو، سمجھ آتا ہو اور خوش الحانی سے پڑھا جائے۔یہ نہیں کہ جلدی جلدی پڑھ کے گزر گئے ، جیسا کہ پہلے بھی ایک دفعہ میں بتا چکا ہوں کہ دوسرے مسلمان جو تراویح میں پڑھتے ہیں تو اتنی تیزی سے پڑھتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آ رہی ہوتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا بھی عبادت ہے۔الحکم نمبر 11 جلد 7 مورخہ 24 / مارچ 1903ء صفحہ 5 کالم 3) ایک حدیث میں آتا ہے، سعید بن ابی سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ یہ نے فرمایا جو شخص قرآن کریم کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔( سنن ابو داؤد۔کتاب الصلوۃ - باب استجاب الترتيل في القراءة حديث (146)