خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 412 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 412

خطبات مسرور جلد ہفتم 412 (36) خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 فرمودہ مورخہ 4 ستمبر 2009 ء بمطابق 4 رتبوک 1388 ہجری شمسی به مقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ۔فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمُهُ۔وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ۔وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (البقره: 186) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پرا تارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو اسے دوسرے ایام میں گنتی پوری کرنا ہوگی۔اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم سہولت سے گنتی کو پورا کرو اور اس ہدیت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔آج میں اس آیت کے پہلے حصہ کے بارے میں کچھ کہوں گا۔رمضان کے مہینے کو قرآن کریم سے ایک خاص نسبت ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا جوئیں نے تلاوت کی ہے کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ - یہ فرما کر واضح فرما دیا کہ رمضان کے مہینے کے روزے یو نہی مقرر نہیں کر دیئے گئے۔بلکہ اس مہینے میں قرآن کریم جیسی عظیم کتاب آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی یا اس کا نزول ہونا شروع ہوا۔اور احادیث میں ذکر ملتا ہے کہ جبریل ہر سال رمضان میں آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم کا جو حصہ اُترا ہوتا تھا اس کی دوہرائی کرواتے تھے۔( صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب كان جبريل يعرض القرآن علی النبی حدیث 4998-4997 ) پس اس مہینے کی اہمیت اس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی آخری اور کامل شریعت اس مہینے میں نازل ہوئی ، یا اس کا نزول شروع ہوا۔پس اللہ تعالیٰ نے جب ہمیں روزوں کا حکم دیا تو پہلے یہ فرمایا کہ روزے تم پر فرض کئے گئے ہیں اور پھر یہ ہے کہ دعاؤں کی قبولیت کی خوشخبری دی۔اس کے بعد کی جو آیات ہیں ان میں پھر بعض اور احکام جو رمضان سے متعلق ہیں