خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 408

408 خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم سلطان مبشر نے ہی یہ لکھا ہے کہ کوئی بھی پریشانی ہوتی تو سب سے پہلے کہتے کہ خلیفہ وقت کو دعا کے لئے لکھو۔پھر صدقہ دو اور پھر درود شریف اور استغفار کثرت سے پڑھو۔اور آپ کا عربی ، فارسی، انگلش کا مطالعہ بڑا وسیع تھا اور نہ صرف مطالعہ کرتے تھے بلکہ پڑھتے وقت جلد پر پوائنٹس اور نشان بھی لگاتے تھے اور پھر اس کے باہر پوائنٹس نوٹ کرتے جاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ کتا ہیں ہمیشہ خود خریدو اور پڑھو تو انہوں نے ہمیشہ اس کو اپنے پلے باندھا۔ان کی گھر میں اپنی لائبریری تھی جس میں آٹھ ہزار کے قریب کتا بیں تھیں۔جب بھی کبھی ربوہ سے باہر جاتے تھے، خلیفتہ اسی کے ہوتے ہوئے تو خیر اجازت لینی ہوتی ہے، بعد میں امیر مقامی کی اجازت کے بغیر باہر نہیں نکلتے تھے اور جب جماعتی کاموں کے لئے جاتے تھے تو بعض دفعہ بلکہ اکثر ہی اپنے عزیزوں کو نہیں ملتے تھے۔ان کی بیٹیاں لاہور میں رہتی تھیں۔کبھی لا ہور دورے پر گئے ہیں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بیٹیوں کو ملیں بلکہ بعض دفعہ بیٹیوں کو ان کے واپس پہنچنے پر پتہ چلا کرتا تھا اور اگر کبھی ملنا پڑ جائے تو امیر صاحب کی اجازت سے ان کو ملنے جایا کرتے تھے۔ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ میں خلیفہ وقت کا سپاہی ہوں اور سپاہی اپنا مورچہ نہیں چھوڑتا۔جمعہ کے دن بھی انہوں نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ربوہ میں جمعہ کو دفتروں میں رخصت ہوتی ہے، آپ ہمیشہ کام کیا کرتے تھے، چھٹی کا تصور ہی کوئی نہیں تھا۔بڑا سادہ لباس ہوتا تھا لیکن صاف ستھرا اور نظافت تھی، روزانہ نہانا، خوشبو لگانا۔ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ جماعت کے نمائندے کو جماعت کے وقار کا پاس رکھنا چاہئے اور ظاہری حلیہ بھی ٹھیک رکھنا چاہئے۔اور واقف زندگی کر کے بہت مشکل حالات بھی آئے، کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا اور نہ کہیں اشارہ کنایہ اپنی غربت کا ، اپنی ضرورت کا اظہار کیا۔بلکہ ڈاکٹر سلطان مبشر لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میری والدہ نے ذکر کیا کہ فلاں عالم جو ہیں ان کو مخیر دوست کی طرف سے وظیفہ ملتا ہے۔آپ بھی اگر کوشش کریں تو یہ ہو سکتا ہے۔حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ میں یہ بے شرمی نہیں کر سکتا اور آپ کا یہ کہنا تھا کہ میں جائز نہیں سمجھتا کہ خدا کے علاوہ کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلاؤں۔ایک دفعہ چند مربیان آپ کے پاس آئے کہ اس کاغذ پر دستخط کر دیں جس پر لکھا ہوا تھا کہ تحریک جدید کے مبلغین کو زیادہ الاؤنس ملتا ہے اور صدر انجمن احمدیہ کے مبلغین کو ، کارکنان کو کم تو اس پر نظر ثانی ہونی چاہئے۔تو آپ نے کہا میں تو اس پر دستخط نہیں کروں گا کیونکہ میں تو ایک وقف زندگی ہوں، جو جماعت مجھے دے گی وہ بصد شکر یہ قبول کروں گا اور یہ بھی جماعت کا شکر ہے کہ ہم سے لینے کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ کچھ نہ کچھ دے دیتی ہے۔کبھی خلفاء کو بھی ذاتی ضرورت کے لئے نہیں لکھتے تھے کبھی حرف شکایت منہ پر نہیں لائے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ امسیح الثالث کو ضرورت پڑی۔آپ نے کہا مولوی صاحب کو بلوا کے لاؤ۔تو ہر جگہ تلاش