خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 405

405 خطبه جمعه فرموده 28 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم آپ کی وفات جیسا کہ میں نے بتایا دو دن پہلے 26 اگست کو ہوئی ہے۔آپ 1935ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوئے تھے اور 1944ء میں جامعہ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔1946ء میں پنجاب یو نیورسٹی سے مولوی فاضل پاس کیا اور تیسری پوزیشن لی۔آپ کا جماعتی خدمات کا عرصہ 63 سال پر محیط ہے۔1952ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر الفضل میں شذرات“ کے نام سے لکھنا شروع کیا۔بڑا لمبا عرصہ یہ چلتا رہا۔1953ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو تاریخ احمدیت مدون اور مرتب کرنے کے لئے فرمایا۔اس کی 20 جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور باقی بھی 2004 ء تک مکمل ہیں اور اس کے بعد نوٹس بنا کے چھوڑ گئے ہیں۔آپ کا ایک بیٹا ہے ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب فضل عمر ہسپتال میں ہیں اور پانچ بیٹیاں ہیں۔ان کے خاندان میں احمدیت اس طرح آئی کہ ان کے ایک عزیز حضرت میاں محمد مراد صاحب حافظ آبادی تھے۔بڑے نیک بزرگ تھے، وہ احمدی ہوئے۔حضرت مولوی صاحب کے دادا کو جب پتہ لگا تو انہوں نے ان پر بڑا ظلم کیا اور اتنا مارا کہ بعض دفعہ تو بہت زیادہ۔شدید زخمی کر دیا کرتے تھے۔تو میاں مراد صاحب نے کہا کہ انشاء اللہ تعالیٰ تمہارے تین عقلمند بیٹے ضرور احمدی ہو جائیں گے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کے پڑدادا جو تھے اس پر اور بھی مشتعل ہو گئے اور زیادہ سخت سزائیں دیں۔اس بارہ میں مولوی صاحب نے ایک واقعہ بیان کیا ہے۔جابہ مخلہ ایک چھوٹی سی جگہ ہے جو حضرت مصلح موعود نے آباد کی تھی ، گرمیوں کے لئے آپ ان دنوں میں وہاں تفسیر صغیر کی تالیف فرما رہے تھے۔مولوی صاحب بھی ان دنوں میں وہاں گئے لیکن وہاں جانے سے پہلے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے دادا کے پاس خانقاہ ڈوگراں کے قریب گاؤں میں گیا۔ان کی زندگی کے آخری دن تھے۔تو وہ کہنے لگے اپنے خلیفہ صاحب کو میرا ایک پیغام دے دینا کہ میرے چھ بیٹے ہیں، جن میں سے تین بچے جن میں سے ایک حافظ قرآن ہے اور دوسرے دو بہت عقلمند اور صاحب علم ہیں تمہارے خلیفہ صاحب نے مجھ سے چھین لئے ہیں اور باقی جو تین ان پڑھ یا معذور ہیں میرے حوالے کر دیئے ہیں۔اگر انہوں نے گنتی پوری کرنی ہے تو جو یہ تین معذور ہیں یہ لے لیں اور جو پڑھے لکھے ہیں وہ مجھے واپس کر دیں۔تو کہتے ہیں جب میں جابہ خلہ گیا تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی۔میں نے یہ بات عرض کر دی۔حضرت مصلح موعودؓ نے جب یہ پیغام سنا تو آپ مسکرائے اور فرمایا کہ اپنے دادا کو میرا پیغام پہنچا دیں کہ مجھے بیٹوں کا تبادلہ بڑی خوشی سے منظور ہے۔آپ اپنے غیر احمدی بیٹے جو ہیں میرے حوالے کر دیں اور جو آپ کے احمدی بیٹے میں ان کو میری طرف سے اجازت ہے اگر وہ احمدیت چھوڑ کے آپ کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں تو چلے جائیں۔تو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا کو آ کے یہ پیغام دیا۔تو کہتے ہیں آپ کے خلیفہ صاحب بڑے ہوشیار ہیں ان کو پتہ ہے کہ انہوں نے مرزائیت نہیں چھوڑنی اور اس پر بڑے روئے اور چلائے بھی۔حضرت مولوی صاحب کی والدہ بھی 1949ء میں ایک رؤیا کی بنا پر احمدیت میں شامل ہوئی تھیں۔