خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 402 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 402

خطبات مسرور جلد ہفتم 402 خطبه جمعه فرموده 28 اگست 2009 کہ پانچوں نمازیں ادا کرنے والے بن جائیں لیکن پھر بھی ایک آدھ نماز رہ جاتی ہے۔جب نمازیں ہی رہ جاتی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کی قبولیت کے لئے کس طرح درخواست کی جاسکتی ہے۔اسی طرح تمام اخلاق فاضلہ کو اپنانے کے لئے درد کے ساتھ کوشش کی ضرورت ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہونی چاہئے کہ رمضان جو تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے اعلیٰ سے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس سے بھر پور فائدہ اٹھا ئیں۔اللہ تعالیٰ نے جو جنت کے دروازے ہمارے لئے کھولے ہیں ان میں سے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے داخل ہونے کی کوشش کریں تبھی اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے قدم بڑھانے والے ہم کہلا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کے حوالے سے ایک جگہ فرمایا کہ: پس چاہئے کہ وہ دعاؤں سے میرا وصل ڈھونڈیں اور مجھ پر ایمان لاویں تا کہ کامیاب ہوں“۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 396 ) پس یہ دعاؤں کی قبولیت کا خاص مہینہ ہے اور سب سے بڑی دعا جو ہمیں کرنی چاہئے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالی کا وصل تلاش کیا جائے ، اس کا قرب تلاش کیا جائے۔اس سے ملنے کی خواہش ہو۔اللہ تعالیٰ سے اس سے ملنے کی دعا کی جائے۔جب خدا مل جائے گا تو دوسری خواہشات خود بخود پوری ہوتی چلی جائیں گی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔لیکن یہاں ایک بات اور یا درکھیں کہ دعا کی تعریف بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے کہ دعا ہے کیا چیز اور کس قسم کی دعا ہونی چاہئے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے۔جو ہم پڑھتے ہیں کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فتا کرنے والی چیز ہے۔وہ گداز کرنے والی آگ ہے۔وہ رحمت کو کھینچے والی ایک مقناطیسی کشش ہے۔وہ موت ہے پر آخر کوزندہ کرتی ہے۔وہ ایک تند سیل ہے پر آخر کوکشتی بن جاتا ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222) تریاق ہو جاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں : دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔“ لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ (223)