خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 386 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 386

386 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم گئی ہے تا کہ آئندہ کے لئے یہ غلطی دوہرائی نہ جائے اور یہی مومن کا طرہ امتیاز ہے، ایک خاص شان ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتا ہے۔جماعت کے افراد کا اور خلافت کا جو تعلق ہے اس تعلق کی وجہ سے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ خلیفہ وقت کے خیالات ان تک پہنچیں۔اگر خوشنودی کے الفاظ ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالائیں اور اگر کسی قسم کی کمزوریوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے، توجہ دلائی گئی ہے تو تب بھی اس بات پر خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں خلافت جیسی نعمت عطا فرمائی ہے جو خالصتاً ہمدردی کے جذبے کے تحت اور مومن ہونے کے ناطے افراد جماعت کے نیکی کی خاطر اٹھنے والے قدموں کی صحیح سمت کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور معیاروں کو اونچے سے اونچا تر کرنے کے لئے جو کمیاں رہ گئی ہیں ان کی نشاندہی کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ خلافت اور جماعت کے تعلق اور رشتے کو مضبوط تر کرتا چلا جائے۔جرمنی جماعت کے کارکنان اور کارکنات جلسہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کا حق ادا کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ لوگ جو ڈیوٹی دینے والے ہیں اب اتنے میچیور (Mature) اور بالغ ہو۔بالغ ہو چکے ہیں کہ ان ڈیوٹیوں کے اکثر میدانوں میں کوشش کر کے کوئی معمولی نقص نکالے تو نکالے ورنہ عموماً بہت اچھا کام ہوتا ہے اور اس میں بھی نقص نکالنے والے کی نیک نیتی اور اصلاح کم ہوگی اور اعتراض زیادہ ہو گا۔سو فیصد تو کہیں بھی پرفیکشن (Perfection) نہیں ہو سکتی۔لیکن انسانی طاقت کے اندر جو بہترین کام ہو سکتا ہے وہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں باوجود اس کے کہ اس کام کے کرنے کی کوئی باقاعدہ ٹریننگ نہیں لی ہوتی جیسا کہ میں نے UK کے کارکنان کے بارے میں بھی کہا تھا۔لف قسم کے لوگ ہوتے ہیں، مختلف پیشوں کے لوگ ہوتے ہیں اور مختلف کام ان کے سپر د کئے جاتے ہیں جو بڑے احسن طریق پر سر انجام دیتے ہیں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اس کام کے سرانجام دینے کے لئے صرف کر دیتے ہیں۔کارکنان کے کام کو دیکھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھر جاتا ہے اور جلسہ میں شامل ہونے والوں اور دیکھنے والوں کو بھی ان کارکنان کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ بے نفس ہو کر کام کرتے ہیں۔وہ کام کر رہے ہوتے ہیں جس میں کوئی مہارت حاصل نہیں کی ہوتی لیکن اس کے باوجود بڑی بڑی غلطیاں نہیں ہوتیں بلکہ معمولی کمیاں رہتی ہیں اور اس سال تو جرمنی والوں نے خاص طور پر بہت محنت کی ہے۔کارکنان نے بہت تھوڑے وقت میں جلسہ کے جملہ تمام انتظامات کو مکمل کیا ہے۔جرمنی کے افسر صاحب جلسہ سالانہ بتا رہے تھے کہ جلسہ سے پہلے مارکیاں وغیرہ بھی وہ خود کھڑی کرتے ہیں اس کے لئے اور دوسرے کاموں کے لئے جو وقار عمل ہوتے ہیں اس میں اگر وہ جماعت کو کہتے تھے کہ اڑھائی یا تین سوا فراد کی ضرورت ہے تو ہمیشہ روزانہ جو وقار عمل کرنے والے آتے تھے وہ چالیس پچاس زائد آ رہے